خطبات محمود (جلد 20) — Page 493
خطبات محمود ۴۹۳ سال ۱۹۳۹ء مخصوص ہوتا ہے، کچھ اپنے جسم اور کپڑوں کی صفائی وغیرہ کے لئے اور کچھ حصہ میں خصوصیت سے عبادت کی جاتی ہے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ ہماری عید کا دن ہے۔پس اس رمضان کے آخری عشرہ میں جمعہ کے دن جو مسلمانوں کی عید کا دن ہے ستائیسویں تاریخ ہے جس میں عام طور پر لیلۃ القدر کی برکات بزرگوں نے دیکھی ہیں اور ان کی دونوں کا جمع ہونا خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے اور اس وجہ سے یہ ایام اس قابل ہیں کہ ان سے انسان فائدہ اُٹھائے اور اپنے اندر ایک تغیر پیدا کر مگر تغیر بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔بعض تغیر چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں مگر اپنی ضرورتوں کے لحاظ سے ان انسانوں کے ساتھ جوان تغیرات کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں خاص تعلق رکھتے ہیں مثلاً ایک شخص ایک بڑے محل کی تعمیر کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لئے سامان جمع کر رہا ہے مگر ایک اور ہے جو بارش میں سوکھی مٹی کی تج ایک ٹوکری کی تلاش میں ہے۔چونکہ اس کے کچے مکان کی چھت ٹپک رہی ہے۔اب مٹی کی ٹوکری کومحل کے سامانوں کے ساتھ بے شک کوئی نسبت نہیں اور مٹی کی ٹوکری اس شخص کے ضروری سامانوں کے مقابل میں بہت حقیر چیز ہے۔جس نے محل بنوانا ہے وہ کہیں نقشے تیار کراتا ہے، اسٹیمیٹ بنواتا ہے اور کہیں اینٹیں اور لکڑی جمع کرتا ہے مگر اس غریب کے لئے جس کی کا مکان بارش میں ٹپک رہا ہے سوکھی مٹی کی ٹوکری ہی زیادہ اہم ہے کیونکہ اس کے بغیر اس کا کی گزارہ نہیں ہوسکتا تو انسان کو جس چیز کی ضرورت ہو وہی اُس کے لئے زیادہ اہم ہوتی ہے اور جو اُ سے چنداں فائدہ نہیں پہنچاتی وہ اُس کے لئے اہم نہیں ہوتی چاہے وہ اپنی ذات میں کتنی ہی مُفید کیوں نہ ہو ایسے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک لطیفہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ کوئی چوہڑا لا ہور کے پاس سے ایک مرتبہ گزرا اُس نے دیکھا کہ شہر میں کہرام مچ رہا ہے۔ہندو، مسلمان ، مرد، عورت سب رو ر ہے ہیں۔اس نے اس کی وجہ دریافت کی تو اُسے بتایا گیا کہ مہا راجہ رنجیت سنگھ مر گیا ہے۔یوں تو سکھوں کی حکومت بہت بدنام ہے مگر اس میں طلبہ نہیں اور کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی میں نے بار ہائسُنا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں امن قائم ہو گیا تھا اور اس نے خرابیوں کو بہت حد تک دُور کر دیا تھا۔مسلمانوں پر سکھوں کے