خطبات محمود (جلد 20) — Page 494
خطبات محمود ۴۹۴ سال ۱۹۳۹ء مظالم کے جو واقعات بیان کئے جاتے ہیں وہ سکھ مسلوں کے زمانہ کے ہیں۔جب ملک کی حکومت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی ، لوٹ مار ہو رہی تھی اور طوائف الملو کی پھیلی ہوئی تھی۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کی کوشش ہمیشہ یہی رہتی تھی کہ امن قائم ہو اور وہ مسلمانوں کے ساتھ بھی ایک حد تک اچھا سلوک کرتے تھے۔ان کے وزراء میں مسلمان بھی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد یعنی ہمارے دادا بھی ان کے جرنیلوں میں سے تھے اور کئی مسلمان بھی بڑے کی بڑے عہدوں پر تھے۔پس اس امن کو دیکھتے ہوئے جو ان کی وجہ سے ملک کو حاصل ہوا اور اس فساد کو یاد کر کے جو ان سے قبل پا یا جا تا تھا ان کی موت کا سب کو صدمہ تھا اور لوگ رور ہے تھے۔چوہڑے نے جو اس کہرام کی وجہ دریافت کی تو کسی نے اسے بتایا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ فوت ہو گئے ہیں۔وہ چوہڑا حیرت سے اس شخص کا منہ تکنے لگا اور دریافت کرنے لگا کہ لوگ ان کی وفات پر اتنے بے تاب کیوں ہیں؟ میرے باپ جیسے لوگ مر گئے تو مہا راجہ رنجیت سنگھ کس شمار میں تھے۔یہ لطیفہ بیان کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جسے جس چیز کی قدر ہوتی ہے وہی اُس کے نزدیک بڑی ہوتی ہے۔اس چوہڑے کا باپ اس سے حسنِ سلوک کرتا تھا اس لئے وہ اسے پیارا تھا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کا حسنِ سلوک گولا کھوں سے ہو مگر چونکہ وہ ان لاکھوں میں سے نہ تھا، نہ اس کی نظر اتنی وسیع تھی کہ وہ سمجھتا ملک کا فائدہ اور امن و امان بڑی چیز ہے۔انفرادی فائدہ کی اِس کے مقابل پر کوئی حقیقت نہیں۔اس لئے اُس کا یہی خیال تھا کہ اصل چیز قد ر کی میرا باپ تھا۔جب وہ فوت ہو گیا تو پھر مہا راجہ رنجیت سنگھ فوت ہو گیا تو کیا ہوا۔تو دنیا میں اپنی ضرورت کی اہمیت کی وجہ سے بعض چھوٹی چیزیں بھی بڑی ہوتی ہیں اور بعض بڑی چیزوں کو عدم علم کی وجہ سے انسان نظر انداز کر دیتا ہے۔بچے کو اگر قیمتی سے قیمتی ہیرے بھی مل جائیں تو وہ ان کی کیا قدر کرے گا ؟ وہ تو یہی سمجھے گا کہ یہ شیشے کے ٹکڑے ہیں۔غالبا حج کے سفر میں جبکہ میں بمبئی جہاز کے انتظار میں تھا مجھ سے ایک دوست نے ذکر کیا کہ چند روز ہوئے کوئی کی جوہری بازار میں سے جا رہا تھا کہ اس کے ہیرے گر پڑے۔غالباً ایک سو پانچ ہیرے تھے جن میں سے بعض چھوٹے اور بعض بڑے تھے۔اس نے پولیس کے مرکزی دفتر میں اطلاع دے دی جس نے تمام تھانوں میں آگے اطلاع کر دی کہ ان کی تلاش رکھی جائے۔کچھ دنوں کے بعد