خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 489

خطبات محمود ۴۸۹ سال ۱۹۳۹ء میں دی گئی تھی کہ وہ عذاب جو فتح مکہ کی صورت میں آنا ہے وہ اہلِ مکہ پر اُس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہیں۔اس عذاب کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ آپ کو مکہ سے نکال دیں۔چنانچہ انہوں نے آپ کو مکہ سے نکال دیا جس کے بعد پہلے جنگِ بدر ہوئی جو فتح مکہ کی پہلی کڑی تھی اور اس کے بعد بعض اور غزوات ہوئے جو اس فتح کی دوسری کڑیاں تھیں اور آخر خدا تعالیٰ کی اس پیشگوئی کے مطابق جس کا قرآن کریم میں بھی ذکر تھا اور جس کا پہلی الہامی کتابوں میں بھی ذکر پایا جاتا تھا مکہ فتح ہوا اور اسلام کے مقابلہ میں اہلِ مکہ کی طاقت بالکل ٹوٹ گئی۔یہ وہ عذاب ہے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اہلِ مکہ پر نہیں آ سکتا تھا اور جس کا اس آیت میں کہ ما كان الله العَذِّبَهُم و انت فيهم ، ذکر کیا گیا ہے لیکن وہ عذاب بھی بہر حال وقتی تھا مگر قرآن کریم چونکہ سارے زمانوں کے لئے ہے اس لئے اس آیت کے ایک روحانی معنے بھی ہیں جس کے ماتحت مومن ہر وقت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ دو قسم کے مومن ہو ا کرتے ہیں۔ایک تو وہ جو آپ کے اُسوہ حسنہ کے کامل پیرو ہیں ، تمام احکام اسلام پر عمل کرتے اور ہر بات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور پیروی کرتے ہیں مگر ایک وہ ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا نمونہ نہیں۔ان سے غلطیاں بھی کی ہو جاتی ہیں مگر معاوہ استغفار کر کے اپنی حالت کو بدلنے اور قلب کی اصلاح کرنے کی کوشش کی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔پس مومنوں کی یہ دو قسمیں ہیں اور انہی دونوں قسموں کا اس آیت کی میں ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ عذاب سے بچنے کے دو ہی طریق ہیں۔اول تو یہ کہ ما كان اللهُ عَذِّبَهُمْ وَانتَ فِيهِمْ، جس قوم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اُس پر عذاب نازل نہیں ہو سکتا یعنی وہ لوگ جن کے دل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم آ بیٹھیں جو تقویٰ کی کی باریک سے باریک راہوں کو اختیار کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی پوری کوشش کریں اُن پر کبھی عذاب نازل نہیں ہو سکتا گویا کامل تقویٰ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکتا ہے لیکن اگر کامل تقوی نہ ہو اور انسان سے غلطیاں سرزد ہو جاتی ہوں تو اس صورت میں بھی اگر تم کوشش کرتے ہو کہ تم سے غلطیاں دور ہو جائیں اور تم استغفار میں مصروف ہو جاتے ہو