خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 490

خطبات محمود ۴۹۰ سال ۱۹۳۹ء اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہو تو اس صورت میں بھی عذاب نازل نہیں ہوسکتا۔پس عذاب سے بچنے کے دو ہی ذریعے ہیں یا تو انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلے اور ایسا چلے کہ آپ کو اپنے دل میں مہمان بنالے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس کے رگ وریشہ میں سرایت کر جائے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر نہیں بلکہ خدا کا نام لے کر کہا ہے کہ سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے مرے بد خواہ کرنا ہوش کر کے مجھ یہ وار یعنی وہ یار مجھ میں سر سے لے کر پیر تک نہاں ہے اب تم حملہ کرو گے تو وہ مجھ پر نہیں بلکہ خدا پر ہو گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ جس شخص کے اندر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ جائیں ہمارا عذاب اس پر نازل نہیں ہو سکتا۔پس اگر تم میرے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی محبت اور ایسا پیار کرو اور آپ کے احکام پر ایسا عمل کرو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق تمہاری رگ رگ میں سرایت کر جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے دل میں گھر بنالیں۔یہاں تک کہ تم پر حملہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ ہو جائے۔اگر تم یہ حالت اختیار کر لو تو تم پر کبھی عذاب نازل نہیں ہو سکتا اور اگر تمہاری یہ حالت نہیں مگر تمہاری خواہش یہ ضرور ہے کہ تم کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ظل بن جاؤ اور اگر تم سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو تم بے اختیار اسْتَغْفِرُ الله اسْتَغْفِرُ الله کہنے لگ جاتے ہو اور کوشش کرتے ہو کہ وہ غلطی آئندہ تم سے سرزد نہ ہو تو اس صورت میں بھی تم پر عذاب نازل نہیں ہوسکتا کیونکہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جا رہے ہو اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جارہا ہو ہماری یہ سنت ہے کہ ہم اُس پر بھی عذاب نازل نہیں کیا کرتے۔یہ وہ معنے ہیں جن پر کسی طرح بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ورنہ جو معنے عام لوگ کرتے کی ہیں اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ وہ معنے واقعات کے لحاظ سے غلط ہیں کیونکہ بعض قسم کے عذاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اہلِ مکہ پر آئے اور جو دوسرے معنے ہیں وہ گو درست ہیں مگر وہ اس آیت پر اس وجہ سے چسپاں نہیں ہو سکتے کہ ویسا عذاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں تو کیا غیر موجودگی میں بھی مکہ پر نہیں آسکتا تھا۔“ (الفضل ۱۳ نومبر ۱۹۳۹ء)