خطبات محمود (جلد 20) — Page 483
خطبات محمود ۴۸۳ سال ۱۹۳۹ء مکہ والوں کے لئے بہت بڑا عذاب تھا۔کیونکہ مکہ والے اپنے آپ کو عرب کا حاکم اور سردار سمجھتے اور مکہ کو ہی دارالخلافہ سمجھتے تھے مگر جب ان پر یہ عذاب نازل ہوا اور مکہ فتح ہو گیا تو اس کی کے بعد دارالخلافہ ہمیشہ کے لئے مدینہ رہا۔گویا دارالخلافہ والی عزت جو مکہ کو حاصل تھی وہ چھین لی گئی۔البتہ حج والی برکات وہاں بدستور قائم رہیں اور قیامت تک قائم رہیں گی۔مگر اسلام کا مرکز ہونے اور دنیوی نظام کا مرجع ہونے کا شرف مکہ کو پھر حاصل نہ ہوسکا نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر مکہ میں رہائش کے لئے واپس آئے اور نہ صحابہ آئے بلکہ اُنہوں نے مدینہ کو ہی اپنا کی دارالخلافہ بنائے رکھا۔اس کے بعد مسلمان مدینہ سے نکلے تو اُنہوں نے دمشق کو مرکز بنایا ، دمشق سے نکلے تو بغداد کو مرکز بنایا، بغداد سے نکلے تو مصر کو مرکز بنایا ، مصر سے نکلے تو استنبول کو مرکز بنایا ای مگر اسلام کا مرکز نہ آیا تو مکہ میں نہ آیا۔پس اس قوم کی حکومت کی تباہی و بربادی، اس کے افسروں کا مارا جانا، ان کی عزتوں کا خاک میں مل جانا اور ان کی وجاہتوں کا خاتمہ ہو جانا یہ عذاب تھا جس کا اہل مکہ پر آنا مقدر تھا مگر یہ عذاب اسی وقت آ سکتا تھا جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اپنے شہر میں سے نکال دیں۔اس کے بغیر یہ عذاب آ ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ پیشگوئی یہی تھی کہ وہ اپنے نبی کو شہر میں سے نکالیں گے تب ان پر عذاب آئے گا۔پس یہ وہ عذاب تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اہلِ مکہ پر آ ہی نہیں سکتا تھا تو اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ مکہ والے تین تدبیریں کر رہے تھے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کر دیں یا قتل کر دیں یا شہر میں سے نکال دیں۔دو تدبیریں ہمارے منشا کو پورا کرنے والی نہیں تھیں۔ہمارا منشا اسی صورت میں پورا ہو سکتا تھا جب وہ آپ کو اپنے شہر میں سے نکال دیں۔تب ہم نے بھی تدبیر کی اور مکہ والوں کو اس رنگ میں چلایا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور ان کی آنکھوں کے سامنے محمد رسول اللہ کو مکہ سے نکال کر مدینہ پہنچا دیا۔( گورسول کریم کی خود نکلے لیکن اس کا موجب کفار کا قتل کا منصوبہ تھا ورنہ آپ نکلنا نہ چاہتے تھے۔) اب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے مکہ میں داخل ہونے کی پہلی بنیا د کب پڑی؟ سو مکہ میں داخل ہونے کی پہلی بنیاد جنگ بدر میں ہی پڑی اور اس جنگ میں ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اہل مکہ پر وہ عذاب آیا جس نے ان کی طاقت کو تو ڑ کر رکھ دیا۔کیونکہ بدر کے