خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 472

خطبات محمود ۴۷۲ سال ۱۹۳۹ء گواب پھر آباد ہو گیا ہے مگر اس گاؤں میں بھی یہ نہیں ہوا تھا کہ ہر شخص مر گیا ہو بلکہ بہت سے کر گئے تھے اور بہت سے گاؤں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے مگر یہ کہ کسی گاؤں کے سارے لوگ مر گئے ہوں اس قسم کی کوئی مثال کم از کم میرے ذہن میں کوئی نہیں اور اگر کہیں ایسا ہو ا بھی ہوگا تو شاذ و نادر کے طور پر ہؤا ہوگا۔یہی حال زلزلہ کا ہے۔اکثر زلزلے ایسے ہی ہوتے ہیں جو ساروں کی تباہی کا موجب نہیں ہوتے۔کچھ لوگ مرتے ہیں تو کچھ بچ بھی جاتے ہیں۔کوئٹہ کا زلزلہ نہایت ہی شدید تھا مگر پھر بھی کچھ لوگ بچ گئے۔بہار کا زلزلہ نہایت خطر ناک تھا مگر اس زلزلہ میں بھی بعض لوگ محفوظ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہی جو زلزلہ آیا اس سے ہیں ہزار آدمی صرف کانگڑہ میں ہلاک ہوئے تھے اور بعض قصبات میں ستر فیصدی تک لوگ ہلاک ہو گئے مگر تمیں فیصدی پھر بھی بچ گئے۔پس اس قسم کے عذاب انبیاء کی موجودگی میں بلکہ ان کے سامنے بھی آسکتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ یہ فرق نہیں کرتا کہ نبی موجود ہے یا نہیں۔ہاں نبیوں اور ان کی جماعت کو دشمنوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ رکھتا ہے جیسے زلزلہ آیا تو خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کے نتیجہ سے بہت حد تک محفوظ رکھا لیکن لاہور اور امرتسر میں بڑی موتیں ہوئیں۔سینکڑوں عمارتیں گر گئیں اور سینکڑوں لوگ مر گئے مگر قادیان کو خدا تعالیٰ نے اس قسم کی تباہی سے محفوظ رکھا۔تو آگے پیچھے کی زلزلہ آئے۔ارد گر د زلزلے آئے کتنی کہ قادیان میں بھی زلزلہ آیا مگر بہت حد تک یہ مقام محفوظ رہا۔اسی طرح طاعون کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ نہیں تھا کہ قادیان اس کے حملہ سے بالکل محفوظ رہے گا بلکہ یہ تھا کہ بہت حد تک اسکے حملہ سے احمدی محفوظ رہیں گے اور بہت حد تک اس کے حملہ سے قادیان بچا رہے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ارد گرد کے دیہات میں طاعون سے بڑی موتیں ہوئیں۔کسی گاؤں کے چالیس لوگ مر گئے کسی کے پچاس حتی کہ میں نے بتایا ہے ایک کی گاؤں بالکل اُجڑ گیا لیکن قادیان میں اس کا ایسا حملہ نہیں ہوا کہ ایک شور مچ جائے اور لوگ گھبراتی کر بھاگنے لگ جائیں۔زیادہ سے زیادہ یہاں ایک یا دو فیصدی موتیں ہوئیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کفار پر تلوار کے ذریعہ جو عذاب آیا