خطبات محمود (جلد 20) — Page 465
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء ه جس کے ملنے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں وعدہ دیا گیا ہے اور انہوں نے کہ دیا کہ فاذهب أنت ورَبُّكَ فَقَاتِلا انا ههنا قاعِدُونَ کے جاتو اور تیرا رب دُشمنوں سے لڑتے پھر میں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔اس وقت بھی اُن پر عذاب نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو چالیس سال تک اس عذاب میں مبتلا رکھا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَتِيمُونَ في الأَرْضِ ٥ وہ چالیس سال تک زمین میں آوارہ پھرتے رہے اور انہیں اپنے لئے کوئی ٹھکانہ نظر نہیں آتا تھا۔یہ عذاب بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی شروع ہو گیا تھا۔گو اس دوران میں ہی آپ وفات پاگئے۔تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے متعدد واقعات سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک قوم میں موجود تھے۔پھر بھی اس قوم پر عذاب نازل ہوا بلکہ اُس جگہ بھی لوگوں پر عذاب نازل ہوا جس جگہ آپ موجود تھے۔اس کے بعد ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو وہاں بھی ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ آپ کی زندگی اور آپ کی موجودگی میں دشمنوں پر عذاب نازل ہوا۔آپ نے بعض کے متعلق بد دعائیں کیں اور وہ مکہ میں ہی عذاب میں مبتلا ہو کر مر گئے اور پھر آپ کی بد دعا سے ایک دفعہ مکہ میں قحط پڑا جو آپ کی زندگی اور آپ کی موجودگی میں آیا بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ جس عذاب کا ان آیتوں میں ذکر ہے وہ بھی کفار مکہ پر آپ کی موجودگی میں ہی آیا اور شائد اس وقت آپ صرف چند گز کے فاصلہ پر ہی کھڑے ہوں گے یعنی یہ جو آیت ہے کہ ما كان الله ليُعَذِّ بَهُمْ وَانْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ اس سے پہلی آیت یہ ہے وَاِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقِّ مِنْ عِنْدِكَ فا مطر علينا حِجَارَةً من السماء کہ جب ان لوگوں نے کہا خدا یا اگر یہ تعلیم سچی ہے اور تیری طرف سے ہی ہے تو آسمان سے ہم پر پتھر برسا کے اشتنَا بِعَذَابِ الیم یا اور کسی قسم کا دُکھ والا عذاب ہمیں دے اور جیسا کہ صحیح حدیثوں اور تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے یہ دُعا ابو جہل نے بدر کے میدان میں کھڑے ہو کر کی تھی۔اور بدر کے میدان میں ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ان پر یہ حجاره نازل ہوئے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں دُعا کی تحریک کر دی اور آپ نے