خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 466

خطبات محمود ۴۶۶ سال ۱۹۳۹ء دُعا کرنے کے بعد کنکروں کی ایک مٹھی اُٹھا کر دشمنوں کی طرف پھینک دی اس مٹھی کا پھینکنا تھا کہ ایک تیز آندھی مسلمانوں کی پشت کی طرف سے چل پڑی اور اس کے ساتھ ریت اور کنکروں کا ایک طوفان اُٹھا جس نے کفار کی آنکھوں میں پڑکر ان کی نظر کو کمزور کر دیا۔کیونکہ ہوا اُدھر سے آ رہی تھی جدھر مسلمانوں کا لشکر تھا اور اُس طرف جارہی تھی جس طرف کفار کا لشکر تھا پھر اس ہوا کی مخالفت کی وجہ سے ہی کفار کے تیر بھی مسلمانوں تک پہنچنے سے رُک گئے۔کیونکہ وہ جو تیر پھینکتے تھے میدان کے درمیان میں ہی بے کار اور بے ضرر ہو کر گر جاتے تھے مگر مسلمان جو تیر پھینکتے تھے وہ کئی گنا زیادہ تیزی کے ساتھ کفار کے سینہ میں پیوست ہو جاتے تھے۔کے پس اس عذاب کی وجہ سے کفار کے حملے ناکام رہے مگر مسلمانوں کا ہر حملہ کامیاب ہوا۔کیونکہ ہوا مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آ رہی تھی جس کی وجہ سے ان کی آنکھیں کھلی تھیں مگر کفارا اپنی آنکھیں آسانی سے کھول نہیں سکتے تھے کیونکہ ہوا اُن کی طرف زور سے جا رہی تھی اور اگر کھولتے تھے تو خاک اور کنکر اُن کی آنکھوں میں گھس جاتے اور اُن کی نظر کو بے کا ر کر دیتے ہی تھے۔اسی طرح تلوار کے ذریعہ کفار پر جو عذاب آیا اور بڑے بڑے صنادید مارے گئے۔یہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ہی آیا اور ایسی حالت میں آیا جبکہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان چند گزوں کا ہی فاصلہ تھا بلکہ جب لڑائی شروع ہوئی اُس وقت گزوں کے کی فاصلہ کا سوال بھی کوئی نہ رہا مسلمان اگر کافروں کے لشکر میں گھسے ہوئے تھے تو کا فرمسلمانوں کے لشکر میں۔پس ابو جہل کی اس دُعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عذاب نازل ہوا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں آیا اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اسی کا ذکر کرتے ہوئے کفار سے فرماتا ہے کہ جو کچھ تم نے دُعا مانگی تھی جب وہ پوری ہوگئی اور اسلام کی صداقت کا تم نے اس رنگ میں مشاہدہ کر لیا تو اب تم پر حجت تمام ہو گئی اور تمہارا فرض ہے کہ تم میں سے جو لوگ بیچ رہے ہیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئیں۔ابوجہل نے جو یہ دُعا کی یہ دراصل خدا تعالیٰ سے آخری اپیل تھی۔اس میں اس نے خدا تعالیٰ سے بڑے جوش سے استدعا کی کہ اگر اسلام سچا ہے اور اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) واقعی خدا تعالیٰ کے رسول ہیں تو ہم پر پتھر برسیں یا کوئی اور عذاب الیم نازل ہو۔اللہ تعالیٰ نے اُس کی اس دُعا کے نتیجہ میں