خطبات محمود (جلد 20) — Page 450
خطبات محمود ۴۵۰ سال ۱۹۳۹ء کے آخری سال میں جبرائیل نے دو دفعہ قرآن کریم آپ کے ساتھ دوہرایا۔یہ بات قرآنی کے رُو سے ثابت ہے کہ ملائکہ جو کام کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جبرائیل کا رمضان میں آپ کے ساتھ قرآن کریم کا تکرار نزول نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ فرشتہ اُترتا ہی تب ہے جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہو۔پس یہ کہنا صحیح نہیں کہ جبرائیل خود بخود تکرار کے لئے آتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے آتے تھے اور اسلامی زبان میں اس کے لئے نزول کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ایام میں تلاوت قرآن کریم کو ضروری قرار دیا ہے اور صحابہ کرام ، تابعین اور تیرہ صدیوں کے مسلمان برابران ایام میں تلاوت قرآن کریم میں زیادتی کرتے چلے آئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں بھی ہم نے رمضان میں درس کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے تا لوگ قرآن کریم کا ترجمہ اور معمولی تفسیر سُن سکیں۔اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تتبع میں قریباً تمام مساجد میں تراویح کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔مسجدوں میں لوگ جمع ہو کر اس طرح قرآن کریم سنتے ہیں پھر بہت سے لوگ گھروں میں قرآن کریم پڑھ لیتے ہیں اور تہجد پڑھتے ہیں۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دستور تھا۔جب اسلام بہت پھیل گیا اور کئی کمزور لوگ بھی داخل ہونے لگے تو حضرت عمر نے سمجھا کہ بہت سے لوگ تہجد نہیں پڑھ سکیں گے اس لئے شروع وقت میں تراویح کا طریق اختیار کیا کی تا مسجدوں میں قرآن کریم سُن سکیں۔گویا یہ طریق صحابہ کا جاری کردہ ہے اور تہجد کا طریق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے۔جو لوگ تہجد پڑھ سکتے ہوں اور گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کر سکیں ، انہیں شروع وقت میں تراویح پڑھنے کی ضرورت نہیں لیکن جو لوگ سمجھتے ہیں کہ تہجد نہیں پڑھ سکتے یا قرآن کریم کی تلاوت نہیں کر سکتے یا وہ ان پڑھ ہیں یا پڑھے ہوئے تو ہیں مگر دیکھ نہیں سکتے ان کے لئے یہ صورت ہے کہ وہ تراویح پڑھیں اور مسجد میں قرآن سُن لیں خواہ کی اول وقت میں یا آخری وقت میں۔اسی طرح وہ لوگ بھی اس طریق سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ گھر پر وہ با قاعدگی کو قائم نہیں رکھ سکیں گے لیکن مسجد میں ناغہ کرنامشکل ہوگا۔ایک روز جانے کے بعد دوسرے روز ناغہ ہو گا تو دوست احباب دریافت کریں گے کہ کیوں نہیں آئے؟