خطبات محمود (جلد 20) — Page 399
خطبات محمود ۳۹۹ سال ۱۹۳۹ء نیچے آگئے اور مالک اوپر۔یہ دیکھ کر تمام سپاہی ارد گرد تلوار میں کھینچ کر کھڑے ہو گئے اور اس کی بات کا انتظار کرنے لگے کہ اگر موقع ملے تو مالک کو قتل کر دیا جائے مگر وہ مالک کو اُس وقت مار نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ اگر ہم نے مالک پر تلوار چلائی تو ساتھ ہی حضرت زبیر کے لڑکے بھی شہید ہو جائیں گے۔اس وقت ان کو بھی اس بات کا احساس ہوا کہ یہ لوگ مالک کو اس لئے نہیں مارتے کہ اگر اسے مارا تو ساتھ ہی مجھ پر بھی حملہ ہونے کا خطرہ ہے اور میں بھی اس کے ساتھ ہی مارا جاؤں گا لیکن سات ہی انہیں خیال آیا کہ اگر مالک بچ گیا تو یہ پھر اپنے ساتھیوں سمیت حضرت عائشہ پر حملہ کر دے گا۔پس انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اگر میں مرتا ہوں تو بے شک مر جاؤں اس وقت مالک کا زندہ رہنا مناسب نہیں۔چنانچہ جب اُنہوں نے اپنے ساتھیوں کو اردگرد خاموش کھڑے دیکھا تو اُنہوں نے ان کو مخاطب ہو کر کہا: أُقْتُلُونِي وَمَالِكاً أُقْتُلُوا مَالِكاً مَّعِى کہ ارے تم انتظار کس بات کا کر رہے ہو! تم مجھے بھی مارڈالو اور مالک کو بھی۔تم کیا سوچتے ہو تم ما لک کو بھی قتل کرو اور ساتھ ہی مجھے بھی۔یہ سبق تھا جو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو دیا کہ تم بجائے یہ دیکھنے کے کہ میں زندہ رہتا ہوں یا نہیں یہ دیکھو کہ اس شخص کے زندہ رہنے سے اسلام کو کتنا ضرر پہنچ سکتا ہے۔پس تم اس بات کا انتظار نہ کرو کہ میں بچتا ہوں یا نہیں بلکہ تم مجھے بھی مار ڈالو اور مالک کو بھی تا کہ اس فتنہ کا سدِ باب ہوا اور یہ پھر اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے اپنا سر نہ اُٹھا سکے۔غرض کبھی ایسا موقع آتا ہے کہ اپنے نقصان کا خیال نہیں کیا جا تا بلکہ صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس شخص یا قوم سے اختلاف ہے وہ کسی طرح تباہ ہو جائے۔ایسی حالت میں اگر ہم اپنے دشمن کو تباہ کرنے کی خاطر اپنے آپ کو بھی تباہ کر دیں تا جس چیز کی ہم حفاظت کرنا چاہتے ہوں کی وہ بچ جائے تو یہ بالکل درست اور مطابق عقل ہوتا ہے لیکن اگر یہ صورت حالات نہ ہو تو پھر ایسے حالات پر خوش ہونا کہ ہمیں جس سے اختلاف ہے وہ تباہ ہو جائے خواہ ساتھ ہم بھی تباہ ہو جائیں عقلمندی اور دوراندیشی سے بالکل بعید ہوتا ہے۔