خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 365

خطبات محمود ۳۶۵ سال ۱۹۳۹ء تو اسے کس طرح دھوکا کہا جا سکتا ہے مگر دنیوی معاملات میں مقابلہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔خشیت اللہ پیدا کرنا چاہیئے ہاں دینی امور ہوں تو دشمن خواہ کتنا مقابلہ کریں اور دُعائیں کریں ان کے ناک بھی رگڑے جائیں تو بھی ان کی نہیں سنی جائے گی۔دُنیوی معاملات میں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور ہم بھی۔اگر اضطرار ان میں زیادہ ہو تو اللہ تعالیٰ ان کی بھی سُن لے گا۔میں نے جو واقعات بیان کئے ہیں یہ دُعا کا دوسرا مسئلہ ہے۔یہ تو ایسا وقت ہوتا ہے جب اپنے رب سے ناز کرنے کو دل چاہتا ہے۔جیسے بعض اوقات انسان دعوے سے کہتا ہے کہ میں نے اپنے محبوب سے بات منوانی ہے۔مجھے کل کی دُعا میں اضطرار بھی تھا مگر اپنے محبوب سے ناز کرنے کا رنگ بھی تھا۔ایسے وقت کی دُعا کے متعلق اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اسے ضائع کرنا محبت کی ہتک ہے۔تو مومن کی زندگی میں ہر جگہ نشان ہوتے ہیں۔اس سفر کا ایک اور نشان ہے۔عزیزم مرزا ناصر احمد صاحب منالی جا ر ہے تھے ہم بھی دھر مسالہ سے انہیں چھوڑنے کے لئے دوسرے موٹر میں گئے۔جب پالم پور تک انہیں چھوڑ کر واپس آ رہے تھے راستہ میں موٹر خراب ہو گئی اور ڈرائیور نے بتایا کہ پٹرول پہنچانیوالی نلکی بیچ میں سے ٹوٹ گئی ہے۔بارش تیز ہورہی تھی اور ساتھ مستورات تھیں۔قریباً شام کا وقت تھا اور منزل سے قریباً ۲۲ میل دور تھے اور وہ بھی پہاڑی سفر کہ جو مر د بھی دو میل فی گھنٹہ مشکل سے چل سکے اور آدھ آدھ میل پر کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں آبادی ہو۔میں نے سامنے دیکھا تو ایک جھونپڑی سی نظر آئی جو بعد میں معلوم ہوا کہ دکان کی ہے۔میں نے دل میں دُعا کی کہ وہاں تک ہی پہنچ جائیں۔شاید وہاں سے کوئی صورت پیدا ہو سکے۔میں نے دُعا کی کہ یا الہی یہ حالت ہے ہم تو چل بھی سکتے ہیں باہر بھی سو سکتے ہیں مگر ساتھ پردہ دار مستورات ہیں تو کوئی صورت پیدا کر دے اس سامنے کے مکان تک پہنچ جائیں۔اتنے میں موٹر میں اصلاح ہو گئی اور وہ چل پڑی اور ہم دل میں بہت خوش ہوئے لیکن عین اس دکان کے سامنے جا کر وہ پھر کھڑی ہوگئی۔جس تک پہنچنے کے لئے میں نے دُعا کی تھی۔میں نے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے کس طرح عین اس جگہ لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں کے متعلق کی میں نے دل میں دُعا کی تھی۔یہ عجیب بات ہے کہ ہماری موٹر جا کر ایسی جگہ ر کی کہ جو اس دکان کے دروازہ کے دونوں سروں کے عین درمیان تھی۔نہ ایک فٹ اِدھر نہ ایک فٹ اُدھر۔ساتھ ہی کی