خطبات محمود (جلد 20) — Page 353
خطبات محمود ۳۵۳ سال ۱۹۳۹ء کہا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کی تباہی و بربادی شاید سینکڑوں سالوں تک دُنیا کو یادر ہے کی گی جب وہ ہوئی تو ہندوستان کے لوگوں کو محسوس بھی نہیں ہوا تھا کہ جنگ ہو رہی ہے سوائے اس کے کہ اخبارات میں اس کا ذکر پڑھتے تھے یا کبھی آٹا مہنگا ہو جاتا تھا اور ہندوستانی سمجھ لیتے تھے کہ جنگ ہو رہی ہے یا جو لوگ فوج میں بھرتی ہو گئے تھے۔ان کے گھروں میں روپیہ آتا تھا یا جب کبھی ان میں سے کسی کے مرنے کی خبر آتی تھی تو سمجھا جاتا تھا کہ لڑائی ہو رہی ہے ورنہ جنگی لحاظ سے ہمارے ملک پر اس لڑائی کا کوئی اثر نہ تھا۔چار سال کی متواتر اور طویل جنگ کے با وجود ہندوستانیوں کو اس کا احساس نہ تھا مگر آج ابھی جنگ شروع بھی نہیں ہوئی لیکن ہندوستان میں جنگی تیاریاں ہو رہی ہیں اور صرف اس رنگ میں نہیں کہ رنگروٹ بھرتی کئے جارہے ہیں یا روپیہ سے برطانیہ کو امداد دینے کے انتظام ہو رہے ہیں بلکہ اس رنگ میں کہ گولہ باری سے ہندوستان کو کس طرح محفوظ رکھا جائے۔آج کلکتہ، بمبئی ، کراچی میں اور سمندر کے قریب واقع دوسرے شہروں میں بھی بچاؤ کے انتظامات ہو رہے ہیں۔رات کو اندھیرے کئے جاتے ہیں ، ہوائی حصوں سے بچاؤ کے لئے لوگوں کو تیار کیا جاتا ہے اور یہ خطرہ لگ رہا ہے کہ دشمن کے جہاز ہندوستان کے شہروں پر گولہ باری کریں گے اور ان کو تباہ کر دیں گے۔اب ایسے جہاز تیار ہو چکے ہیں کہ جو سو سوٹن یعنی قریباً تین ہزار من تک وزنی بم لے کر بمباری کرتے ہیں اور ایک ہی پرواز میں دو دو اور اڑھائی اڑھائی ہزار میل جا کر حملہ کر کے واپس آ جاتے ہیں اور ایسے سمندری جہاز تیار کئے گئے ہیں جو ہوائی جہازوں کو لاد کر دوسرے ملکوں کے قریب لے آتے ہیں۔جہاں سے اُڑ کر وہ ان مملکوں پر آسانی سے حملے کر کے واپس ان سمندری جہازوں میں آ اُترتے ہیں۔ہندوستان ان سامانوں کے ہوتے ہوئے ایبی سینیا کی زد میں ہے۔روس کے کی علاقوں اور چین کے جاپانی علاقوں کی زد میں ہے روسی سرحد انگریزی سرحد سے پانچ چھ سو میل ہے۔حبشہ کی دو ہزار میل کے قریب ہے اور بعض علاقوں میں تو ہندوستان کی سرحد برطانیہ کے مخالف ملکوں سے سو ڈیڑھ سو میل ہی ہے۔گو اب تک روس، اٹلی اور جاپان نے جرمنی کے کی ساتھ جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا لیکن خطرہ ضرور ہے کہ کسی وقت وہ بھی جنگ میں شامل ہو جائیں۔