خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 345

خطبات محمود ۳۴۵ سال ۱۹۳۹ء جماعتوں نے کیں۔ایمان تو ایک موت ہے جب تک کوئی شخص اس موت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اس وقت تک وہ ہرگز ہرگز ابدی زندگی حاصل نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو اپنی بارگاہ میں قبول کیا کرتا ہے جو ہر وقت مرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہودیوں کے متعلق فرماتا ہے کہ یہ قوم ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکلی اس ڈر کی اور خوف سے کہ وہ مر جائیں گے لے مگر کیا آج اسلام کی یہی حالت نہیں ؟ اور کیا اسلام اپنی موت کے قریب نہیں پہنچ گیا ؟ کیا تمہیں کبھی خیال نہیں آتا کہ تم کن لوگوں کی اولاد ہو ؟ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنہوں نے یورپ سے لے کر چین کی انتہائی سرحدوں تک حکومت کی تھی تم ان لوگوں کی اولاد میں سے ہو جن کے ماتحت کسی زمانہ میں وہ تمام یوروپین اقوام تھیں جو آج تم پر حکومت کر رہی ہیں۔یہی اٹلی جو آج بڑا شور مچا رہا ہے اس کے کئی حصے تمہارے باپ دادوں کے ماتحت تھے۔یہی جرمنی جس کا آج چاروں طرف شہرہ ہے اس کے کئی حصوں پر تمہارے باپ دادوں کی حکومت تھی۔یہی پین جو آج ترقی کر رہا ہے تمہارے باپ دادوں کے ماتحت تھا۔اسی طرح امریکہ کے جزائر ، فلپائن تک ، افریقہ سارے کا سارا اور ایشیا قریباً سارا ان کے ہاتھ میں تھا۔تم میں سے کئی جو آج یہاں بیٹھے ہوئے ہیں بالکل ممکن ہے وہ بلا واسطہ ان بادشاہوں کی اولاد میں سے ہوں لیکن آج تمہاری کیا حیثیت ہے۔آج تمہاری ہی نہیں آج سارے اسلام کی کیا حیثیت ہے۔آج مسلمانوں کی کہیں عزت ہے نہ اسلام کے نام سے ڈرنے والا کوئی موجود ہے۔چھوٹی چھوٹی تو میں جن کے پاس حکومت نہیں آج ان کی بھی آواز سنی جاتی ہے مگر اسلام اور مسلمانوں کی آواز کہیں سنی نہیں جاتی۔گاندھی کی آواز بھی آج لوگوں پر اثر کرتی ہے۔حالانکہ گاندھی ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے جسے ہزار سال سے زیادہ حکومت کئے گزر چکا ہے لیکن آج مسلمان بادشاہوں کی آواز کی بھی کوئی قدر نہیں کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی مثال ایک گرتے ہوئے کھنڈر کی سی ہے اور گاندھی کی مثال گو ایک کی جھونپڑی کی سی ہے مگر وہ نئی بنی ہوئی ہے اور اس کے متعلق امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دس بیس سال کی تک ان کے کام آئے گی لیکن مسلمانوں کی حکومتیں گرتا ہو ا کھنڈر ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ آج ہے تو کل نہیں اور جو کل ہے تو پرسوں نہیں تو وہ جو یہود کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حَذَرَ الْمَوْتِ کی