خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 346

خطبات محمود ۳۴۶ سال ۱۹۳۹ء کے الفاظ بیان فرمائے ہیں اُس سے زیادہ موت کا خوف مسلمانوں کے ساتھ لگا ہوا ہے اور تمہارے ساتھ بھی لگا ہوا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب اگر تم زندگی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا طریق ہم تمہیں بتا دیتے ہیں اور وہ یہ کہ موتُوا تم مر جاؤ۔فرما یا مردہ قوم کی زندگی کی صرف ایک ہی صورت ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کے لئے اپنے آپ پر موت وار د کر لے۔پہلی موت جو تم نے اپنے آپ پر وارد کی تھی وہ خدا تعالیٰ کے لئے نہیں تھی بلکہ وہ موت شیطان کے لئے تھی۔وہ موت اپنے نفس کے لئے تھی ، وہ موت اپنی ہستیوں اور کاہلیوں کے لئے تھی۔یہی وجہ ہے کہ تم نے جو موت قبول کی تھی وہ دائی تھی مگر فرماتا ہے اب تم دوسری موت کا بھی تجربہ کر کے دیکھ لو اور اپنے نفس کے لئے نہیں شیطان کے لئے نہیں بلکہ ہمارے لئے مر جاؤ۔پھر دیکھو ہم تمہیں زندہ کرتے ہیں یا نہیں۔کتنا لطیف استعارہ ہے جو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ نبی ہمیشہ اسی قوم میں آتا ہے جس قوم کے متعلق دنیا یہ فیصلہ کر دیتی ہے کہ وہ مر رہی ہے اور جو مر نے والا ہو اس کی جان کی کیا قیمت ہو سکتی ہے۔قیمت ہمیشہ اس چیز کی ہوتی ہے جس نے رہ جانا ہومگر جس نے ضائع ہی ہو جانا ہو اس کی کچھ بھی قیمت نہیں ہو سکتی تو یہاں ایسا لطیف تقابل کیا ہے کہ دل عش عش کر اُٹھتا ہے اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کس بلندی تک مضمون کو پہنچا دیا گیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ ہم ہمیشہ ایسی ہی قوموں میں نبی بھیجا کرتے ہیں جن کی کے متعلق دنیا یہ فیصلہ کر چکی ہوتی ہے کہ وہ آج بھی کریں اور کل بھی کریں جیسے آج کل مسلمان کی ہیں کہ ان کے متعلق تمام دُنیا کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ ایک مُردہ قوم ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو تم مر گئے اور آج تمہاری موت اس قدر واضح اور کھلی ہے کہ ہر شخص تمہیں دیکھ کر یہی کہتا ہے کہ تم زندہ نہیں ہو سکتے مگر یہ موت تم نے اپنے نفس کی خاطر قبول کی تھی۔یہ موت تم نے اپنے عیش اور آرام کے لئے قبول کی تھی ، یہ موت تم نے اپنی عزت کی خاطر قبول کی تھی ، یہ موت تم نے اپنی ذاتی ترقی کے لئے قبول کی تھی مگر بجائے اس کے کہ تمہیں آرام حاصل ہوتا ، بجائے اس کے کہ تمہیں عزت ملتی ، بجائے اس کے کہ تمہیں ترقی حاصل ہوتی تم موت کے قریب پہنچ گئے ہو۔نہیں نہیں تم مر ہی گئے ہو اور دُنیا متفقہ طور پر پکار اُٹھی کہ اب تم میں کوئی جان باقی نہیں رہی۔اب بتاؤ تمہاری عزت اور تمہارے مال کی کیا قیمت ہے؟ یقینا کچھ بھی نہیں مگر فر ما تا ہے جس جسم ،