خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 336

خطبات محمود ۳۳۶ سال ۱۹۳۹ء ایمان لانے کے ان کی قربانی ، ایثار اور اخلاص کو دیکھ کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کے افراد کیا اور دوسرے خاندانوں کے افراد کیا سب ان کے اردگر در ہتے اور سمجھتے کہ ان سے مل کر کام کرنا اسلام کی خدمت ہے۔جب خالد فوت ہونے لگے تو ان کے ایک دوست اُن سے ملنے کے لئے آئے۔ان کی حالت نازک ہو رہی تھی اور یہ نظر آ رہا تھا کہ وہ چند گھنٹوں کے اندر اندر دُنیا کو چھوڑ دینے والے ہیں۔انہیں سخت گرب تھا اور اسی کرب کی حالت میں وہ بستر پر تڑپ رہے تھے۔کبھی دائیں کروٹ بدلتے اور کبھی بائیں۔اس دوست نے انہیں کہا خالد ! تم نے اسلام کی اتنی عظیم الشان خدمت سرانجام دی ہے کہ میں تمہیں جنت اور خدا کے فضل کی بشارت دیتا ہوں۔تم کیوں فکر کرتے ہو؟ تمہیں تو فوراً خدا اپنے فضل کی چادر میں لپیٹ لے گا۔خالد نے ان سے کہا کہ ذرا میرے قریب آؤ اور میری قمیص اُٹھاؤ۔جب اُنہوں نے قمیص اُٹھائی تو خالد کہنے لگے دیکھو! میرے جسم پر کیا کوئی جگہ ہے جہاں تلوار کا نشان نہ ہو؟ اُنہوں نے دیکھا تو واقع میں ایک انچ بھی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں تلوار کے زخم کا نشان نہ ہو۔پھر اُنہوں نے کہا کہ میرے تہہ بند کو رانوں تک اُٹھا دو۔اُنہوں نے تہہ بند اٹھا کر دیکھا تو وہاں بھی رانوں تک اسی طرح زخموں کے نشانات سے جسم بھرا ہوا تھا۔یہ نشانات دکھا کر وہ کہنے لگے۔میں نے اپنے آپ کو ہر خطرے میں ڈالا۔ایسی ایسی نازک جگہوں پر میں نے اپنے آپ کو پھینکا کہ میں سمجھتا تھا آج میرے لئے شہادت یقینی ہے لیکن افسوس با وجود اس کے کہ ہر میدان میں میں نے اپنے آپ کو شہادت کے لئے خطرے میں ڈالا آج میں بستر پر مر رہا ہوں کے یہ وہ لوگ تھے جو اپنی کمزوریوں کو سمجھتے تھے۔یہ وہ لوگ تھے جو جانتے تھے کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی وقت جو مخالفت کی ہے اُس کا کفارہ معمولی کفارہ نہیں ہوسکتا۔ایمان کے ساتھ ان کے گناہ بخشے گئے ، ایمان کے ساتھ انہیں خدا اور اس کے رسول کا قرب حاصل ہوتی گیا اور ایمان کے ساتھ وہ اعلیٰ درجہ کے روحانی مقامات پر پہنچ گئے مگر باوجود اس کے ان کے دلوں کی یہ خلش نہیں مٹتی تھی کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی آواز کو کیوں نہیں مانا۔خدا نے تو ان کو بیشک بخش دیا مگر اُنہوں نے اپنی جانوں کو نہیں بخشا۔خدا نے تو ان کی جانوں پر رحم کر دیا مگر اُنہوں نے اپنی جانوں پر رحم نہیں کیا۔جب خدا نے ان کو بخشا تو انہوں نے کہا