خطبات محمود (جلد 20) — Page 328
خطبات محمود ۳۲۸ سال ۱۹۳۹ء کہیں سے نہیں ملتیں جتنی آپ خرید لاتے ہیں۔ایک دوست نے ایک دفعہ مجھے سنایا کہ ہم سالہا سال سے تجارت کرتے تھے اور ولایت سے مال منگواتے تھے۔ایک دفعہ میرا بمبئی جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ چیز بمبئی میں ولایت سے ستی بکتی تھی۔تو ہمارے دکانداروں کو یہ نہیں کرنا چاہئے کہ ایک ہی دکان سے چیز خرید لا ئیں بلکہ محنت کر کے اور پھر کر خریدنی چاہئے۔پھر انہیں حرام ذرائع کی سے اسے سستا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کبھی ایک ہی دکان پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔ایک ہی دکان پر سب چیزیں ستی کبھی نہیں ہو سکتیں۔اگر دس ستی ہوں گی تو ایک ضروری مہنگی ہوگی۔اس لئے ہمیشہ پھر کر تحقیقات کرنی چاہئے۔اس سے ذرائع حصول بڑھتے ہیں۔یہ ذرائع حلال ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی کام کرنے لگو تو پہلے استخارہ کر لو گے حضرت خلیفہ اول سُنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک دوست کوئی سودا کرنے لگے تو آپ نے انہیں نصیحت کی کہ استخارہ کر لیں۔وہ لاکھوں کا سودا تھا اُس دوست نے کہا کہ اس کی میں ہزاروں کا فائدہ ہونا یقینی ہے۔آپ نے فرمایا کہ استخارہ کر لو مگر اُس نے کہا کہ کیا ضرورت ہے؟ اس میں فائدہ یقینی ہے مگر پھر آپ کے فرمانے پر استخارہ کیا۔جب موقع پر پہنچے تو وہاں کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور سودا نہ ہو سکا۔بعد میں معلوم ہوا کہ اس چیز کا نرخ اتنا گر چکا تھا کہ ان کو کی ہزاروں کا نقصان ہوتا۔تو نفع بھی اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ہی ہوسکتا ہے اور نفع خواہ زیادہ ہو یا کم ، ضروری چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت ہے جو حلال مال میں ہی ہو سکتی ہے۔پس میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارے تاجر اپنی کمیٹی بنائیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ ایسی خرابیاں پیدا نہ ہوں۔میں نے سُنا ہے بعض لوگ اس طرح یہاں ترکاریاں لائے تو دوسروں نے کہا کہ ہم بھی اس طرح کریں اور وہ بھی یہی کرنے لگے۔اسٹیشن والوں کو کیا ہے ان کا تو فائدہ ہی ہے۔جس مال پر ریلوے کو دس روپے محصول ملنا ہے اس پر اگر ان کو کوئی چار آنے بھی دے دے تو ان کا کیا نقصان ہے؟ مگر اس سے جماعت کی بدنامی ہوتی ہے۔تاجروں کی کمیٹی کو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔انہیں جلسے کر کے دکانداروں کو بتانا چاہئے کہ بد دیانتی کی بُری چیز ہے اور دوسرے دوستوں کو تحریک کرنی چاہئے کہ اگر کسی دکاندار میں کوئی کمزوری نظر آئے تو اس کمیٹی کو اطلاع دیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آہستہ آہستہ ہم اس کمیٹی کو یہ اختیار دے دیں