خطبات محمود (جلد 20) — Page 325
خطبات محمود ۳۲۵ سال ۱۹۳۹ء وہ جھوٹا ہے تو اُسی وقت عدالت سے چلا آتا اور اپنے مؤکل سے کہتا کہ آ کر اپنی فیس لے جانا۔یہ کوئی نیکی نہ تھی بلکہ انسانیت کا یہ تقاضا تھا جو ایک بندے کو خدا ماننے والے سے ظاہر ہوتا تھا مگر اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ زمانہ کے مامور پر ایمان لانے والوں کے اخلاق کتنے بلند ہونے چاہئیں۔یہ کس قدر معیوب بات ہے کہ ایک شخص ایک من ترکاری بٹالہ سے لے آئے حالانکہ اس کی اجازت نہ ہو اور پھر بابو کو کچھ دے کر محصول کی ادائیگی سے بچ جائے۔ایسا شخص تر کاری کی تو بے شک بٹالہ سے لے آیا اور محصول کے پیسے بھی بچالا یا مگر ایمان بٹالہ میں ہی چھوڑ آیا۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ان باتوں کو چھوڑ دیا جائے۔ایسا کرنے والے آخر اس طرح کتنا مال کما لیتے ہیں۔اس طرح مال نہیں ملا کرتا اللہ تعالیٰ جب کسی کو مال دینا چاہتا ہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا خواہ وہ دیانتداری کے معیار کتنے سخت کیوں نہ کر دے۔خدا تعالیٰ کسی نہ کسی طرح اسے دینے کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ نکال ہی لیتا ہے اور جب وہ نہ دینا چاہے تو اس طرح کی کمایا ہو ا مال کسی نہ کسی طرح نکل جاتا ہے۔ایسے لوگوں میں سے کئی جماعت سے بھی نکل جاتے کی ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ہمارا بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔حالانکہ ان کا بائیکاٹ کون کرتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے سزا ہوتی ہے۔ان کے مرض کو کس نے ظاہر کیا۔خدا تعالیٰ ہی ایسا کر سکتا ہے۔ایسا کھایا ہو ا مال ہی ان کو جماعت سے نکلوا دیتا ہے۔پھر کئی ایک کے چوریاں ہو جاتی ہیں، کئی ایک کا بیماریوں سے نقصان ہو جاتا ہے۔دو چار بچے ٹائیفائڈ سے بیمار ہو جا ئیں تو سارا حرام ذرائع سے کمایا ہؤا روپیہ نکل جاتا ہے۔ڈاکٹروں کی فیسیں ، دوائیوں کی قیمت کپڑے وغیرہ بنوانے اور صفائی کرنے کے اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔پس انسان کو سوچنا چاہئے کہ جہاں آمد کے ذرائع ہیں وہاں خدا تعالیٰ نے مال کے اخراج کے ذرائع بھی رکھے ہیں اگر کسی شخص کا مال حلال ہے تو اللہ تعالیٰ اسے خرچ بھی جائز ذرائع سے کراتا ہے مگر جو حرام مال کھاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خرچ بھی ایسے ذرائع سے کرا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اخراج کے بھی دوسوراخ رکھے ہیں۔ایک جائز اخراجات کا اور دوسرا اس کے گناہ کے کفارہ کا۔پھر میں کہتا ہوں اس طرح دولت بھی مل جاتی ہو۔فرض کرو کوئی شخص اس طرح راک فیلر بن جائے کہ جو دنیا کا امیر ترین آدمی ہے، فورڈ موٹروں والا فورڈ بن جائے ، مارگن بن جائے مگر اللہ تعالیٰ