خطبات محمود (جلد 20) — Page 326
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء اس پر ناراض ہو جائے تو اس دولت کا کیا فائدہ؟ جب وہ خدا کے سامنے پیش ہو اور خدا تعالیٰ فرشتوں سے کہے کہ اسے میرے سامنے سے لے جاؤ اس نظارہ کا تصور کرو اور پھر سوچو کہ اس طرح کی دولت کس کام آ سکتی ہے؟ اسی طرح مجھے ایسی شکائتیں بھی آتی رہتی ہیں کہ بعض لوگ روپیہ لے کر دیتے نہیں۔خصوصا دکانداروں میں یہ مرض ہے۔بعض تجارت کے نام پر روپیہ لیتے ہیں اور پھر دیتے نہیں ، کھا جاتے ہیں اور بہانے بناتے ہیں۔میں نے پہلے بھی توجہ دلائی ہے کہ قادیان کے تاجروں کو اپنی ایک کمیٹی بنانی چاہئے جوان باتوں کی نگرانی کرے مگر افسوس ہے کہ نہ تو اس طرف تاجروں نے توجہ کی ہے اور نہ امور عامہ نے۔اگر ہمارے تاجر اپنے اخلاق درست کر لیں ، سچائی اور دیانتداری سے کام کریں تو وہ کی بڑے بڑے مبلغوں سے زیادہ کام کر سکتے ہیں اور اس سے ان کی عقل بھی تیز ہو کر ان کی آمد زیادہ ہو سکتی ہے۔ناجائز ذرائع اختیار کرنے والے کی عقل کبھی تیز نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ تو سمجھتا ہے کہ میں جھوٹ سے فائدہ حاصل کرلوں گا لیکن جس نے جھوٹ نہیں بولنا ہوتا وہ سوچتا ہے کہ کس طرح میں جائز ذرائع سے نفع حاصل کر سکتا ہوں اور اس طرح اس کی عقل تیز ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہمارے ہاں کوئی تقریب تھی۔غالباًلڑ کے کا نکاح تھا میں نے یہاں سے چھوہاروں کا پتہ کرایا تو معلوم ہوا کہ چھ سیر روپیہ کے لیں گے۔میں نے دو تین واقفوں سے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ بٹالہ میں سولہ سیر ملتے ہیں۔میں حیران تھا کہ اتنا فرق کس طرح ہو سکتا کی ہے؟ جس شخص نے خبر دی اُسے بلا کر دریافت کیا تو اُس نے کہا کہ بارہ سے سولہ سیر تک ضرور مل جائیں گے اور یہاں کا ریٹ اس لئے گراں ہے کہ یہاں کے تاجر محنت نہیں کرتے۔شہروں کی میں کشم کی حدود سے باہر بعض بڑی بڑی دکانیں ہیں جہاں سے چیزیں سستی مل جاتی ہیں مگر ہمارے دکاندار محنت نہیں کرتے۔شہر سے ہی سودا لے آتے ہیں۔میں نے اسی دوست کو بھجوا دیا کی اور وہ واقع میں گیارہ یا بارہ سیر چھوہارے ایک روپیہ میں لے آئے۔تو جو تا جر جھوٹ کا عادی ہو جائے اُس کی عقل تیز نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ صرف چالا کی کے زور سے نفع کمانا چاہتا ہے۔جائز ذرائع سوچنے اور تلاش کرنے کا اسے خیال بھی نہیں آتا ور نہ منڈیوں میں اتنے اتنے فرق کی ہوتے ہیں کہ جن کا حساب نہیں۔ایک ملک کی بنی ہوئی چیز ستی ہوتی ہے اور وہی دوسرے کی کی