خطبات محمود (جلد 20) — Page 322
خطبات محمود ۳۲۲ سال ۱۹۳۹ء ترقیات کے دروازے ہمیشہ اللہ تعالی عمل کے ذریعہ کھولتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی فرماتا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ لا یعنی جو لوگ متقی ہوتے ہیں اور احکام الہی کی بجا آوری پورے طور پر کرتے ہیں وہی ترقیات حاصل کر سکتے کی ہیں۔عملی اچھا نمونہ بلکہ معمولی نمونہ بھی دوسروں پر بڑا رعب قائم کر دیتا ہے۔کانگرس کی طرف کی لوگوں کی رغبت قر بانیوں سے ہی ہوئی ہے۔لوگوں میں کانگرس کو جو مقبولیت حاصل ہے وہ ان وعظوں کی وجہ سے نہیں جو گاندھی اور بوس کرتے ہیں بلکہ ان قربانیوں کی وجہ سے ہے جو ان کے ماتحت ہزاروں لوگوں نے کیں۔لوگ جب ان کی قر بانیوں کو دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ بھی ہندوستانی ہیں اور ہم بھی۔یہ لوگ ملک کے لئے قید و بند کے مصائب جھیل رہے ہیں اس لئے ہمیں ان کی عزت کرنی چاہئے۔جب انسان عملی قربانی کرتا ہے تو دوسروں کے لئے اعلیٰ درجہ کا سبق اس میں ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا کسی نے آپ سے کہا کہ انہوں نے گاڑی کا ٹکٹ نہیں لیا تھا۔جب میں نے تحریک کی کہ ٹکٹ ضرور لینا چاہئے تو انہوں نے کہا کہ سر کا ر کا مال کھانا جائز ہے۔یہ جو کچھ ہے ہمارے ہی ٹیکسوں سے بنا ہے اور اس لحاظ سے ہمارا اپنا ہی ہے پھر ٹکٹ کی کیا ضرورت ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو نصیحت فرمائی کہ یہ درست نہیں اور ایک روپیہ دیا کہ واپس جائیں تو ٹکٹ لے کر جائیں مگر اب میرے پاس گزشتہ دنوں متواتر ایسی شکایات پہنچی ہیں کہ بعض احمدی بغیر ٹکٹ کے ریل میں سفر کرتے ہیں خصوصاً قادیان کے لوگ۔ان میں سے بھی قادیان کے تاجر بالخصوص ایسا کرتے ہیں۔وہ اپنا مال بغیر محصول کے لے آتے ہیں اور پھر اس میں سے تھوڑی سی کوئی چیز ریلوے کے ملازم کو دے کر بچ جاتے ہیں۔مثلاً سبزی لے آئے اور اس میں سے تھوڑی سی با بوکو دے دی اور اس طرح وہ سمجھتے ہیں کہ ہم حلال کھا رہے ہیں۔حالانکہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ اپنے پیٹوں میں دوزخ کی آگ ڈالتے ہیں تے اگر ان کا یہ رویہ درست ہے تو پھر چور پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔یہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں گزارہ نہیں ہوتا۔چور بھی تو یہی کہتا ہے کہ گزارہ نہیں ہوتا۔ایسے لوگوں کے گھروں میں اگر چوری ہو تو ان کی کے اصل کے مطابق وہ ضرور انصاف ہو گا کیونکہ وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ