خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 323

خطبات محمود ۳۲۳ سال ۱۹۳۹ء دوسرے کا مال لوٹ لینا نا جائز نہیں۔مجھے یاد ہے جب یہاں ریل جاری ہوئی تو جو سر کاری کی ملازم یہاں آتے تھے وہ ایک دو سال تک مجھے خاص طور پر ملنے آتے رہے۔کیونکہ نیا نیا اثر تھا اور باوجود یکہ وہ سخت مخالف تھے۔لاہور ، امرتسر وغیرہ مقامات پر جا کر وہ اس بات کی تعریف کرتے تھے کہ ہزار ہا لوگوں میں سے ایک بھی بے ٹکٹ نہیں ہوتا۔ایک کے متعلق مجھے یاد ہے وہ کچ اب فوت ہو چکا ہے اس نے مجھے چٹھی لکھی کہ فلاں شخص غیر احمدیوں سے مل کر احمدیت پر کی اعتراضات کرتا ہے۔اس نے لکھا کہ میں تو اسے جانتا نہیں تھا کہ احمدی ہے۔میں نے بعض لوگوں سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ احمدی ہے۔وہ شخص پہلے سلسلہ کا مخالف تھا مگر جلسہ کے کام پر مقرر ہونے کی وجہ سے اس پر ایسا اثر ہوا کہ ایک احمدی کے منہ سے اعتراض سُن کرا سے غیرت آگئی اور اس نے مجھے اطلاع دی کہ فلاں شخص جماعت کو بدنام کرتا ہے۔کیونکہ وہ جماعت کی عملی خوبیوں سے متاثر ہو گیا تھا حالانکہ ٹکٹ لے کر سفر کرنا کوئی خاص نیکی نہیں صرف کی بدی سے بچنا ہے۔یہ نیکی ایسی ہی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ کسی شخص کے ہاں کوئی مہمان آیا اس نے اس کی بہت خاطر تواضع کی کئی کھانے پکوائے اور خود اُٹھا اُٹھا کر لاتا اور اسے کھلاتا۔نوکروں کو تاکید کی کہ اس کا خاص خیال رکھیں جب وہ اچھی طرح اس کی ج خدمت کر چکا تو جیسا کہ ہمارے ملک میں قاعدہ ہے کہ مہمان سے معذرت کرتے ہیں کہ اچھی طرح خدمت نہیں ہو سکی۔کوئی کوتاہی ہو گئی ہو تو معاف کریں۔بعض لوگ تو یہ بات تکلف سے کہتے ہیں مگر بعض واقعی اخلاص سے کہتے ہیں۔اس نے بھی اپنے مہمان سے یہ بات کہی تو مہمان نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کھانا کھلا کر مجھ پر کوئی احسان کیا ہے؟ اس احسان کی حقیقت اس کی احسان کے مقابلہ میں کچھ نہیں جو میں نے آپ پر کیا ہے۔میزبان شریف آدمی تھا اس نے کہا کہ میں تو پہلے ہی آپ سے شرمندہ ہوں لیکن اگر آپ بتا دیں کہ آپ کا کیا احسان ہے تو شکر گزاری کا احساس بڑھ جائے گا۔مہمان نے کہا کہ آپ کا مکان اور ساز وسامان دس پندرہ ہزار کا ہو گا۔جب آپ میرے لئے کھانا وغیرہ لانے کے لئے اندر جاتے تھے تو میں اگر اسے دیا سلائی لگا کر جلا دیتا تو آپ کیا کر سکتے تھے اور یہ میرا احسان ہے کہ میں نے آپ کا گھر بار جلا نہیں دیا۔تو یہ ٹکٹ لے کر سفر کرنا کوئی نیکی نہیں۔نیکی تو ایصالِ خیر کا نام ہے۔شر سے بچنا تو کی