خطبات محمود (جلد 20) — Page 290
خطبات محمود ۲۹۰ سال ۱۹۳۹ء کے ماتحت جس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں میں نے خیال کیا کہ یہاں ایک روپیہ مجھے کی ملے۔ہم لوگ چلے جارہے تھے اور بعض احمدی میرے ساتھ تھے۔سامنے ایک گاؤں تھا اور کچھ لوگ کھڑے نظر آ رہے تھے۔میرے ساتھیوں نے بتایا کہ اس گاؤں کا نمبر دار شدید مخالف ہے اور وہی اپنے ساتھیوں سمیت کھڑا ہے۔یہ لوگ احمدیوں کو مارتے ہیں حتی کہ اپنے گاؤں میں سے کسی احمدی کو گزرنے بھی نہیں دیتے۔میرے بعض ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ گاؤں کے باہر باہر چلنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ کوئی گالی گلوچ کریں۔ابھی یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ گاؤں نزدیک آ گیا جب میں اس نمبردار کے مکان کے قریب پہنچا تو وہ دوڑ کر آگے آیا اور ایک روپیہ پیش کیا۔پہلے اللہ تعالیٰ نے جماعت کو سبق دلانے کے لئے ایک بات میرے دل میں پیدا کی اور اپنی محبت کا تجربہ کرانے کے لئے میرے منہ سے سوال کرا دیا کہ روپیہ ملے اور دوسری طرف جماعت کے دوستوں کو اس کا احساس کرایا کہ یہ دشمنوں کا گاؤں ہے اور پھر اس نشان کو اسی گاؤں کے سب سے بڑے مخالف کے ذریعہ پورا کرا دیا۔یہ خدا تعالیٰ کا ایک نشان تھا اور اس نے بتایا کہ ہم جب چاہیں اور جہاں سے چاہیں دلوا سکتے ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جب آپ باغ میں فروکش تھے ایک دفعہ آپ نے جبکہ میں بھی پاس تھا کی والدہ صاحبہ سے فرمایا کہ آجکل مالی تنگی بہت ہے لنگر خانہ کا خرچ بہت زیادہ ہو رہا ہے۔میرا خیال ہے کہ بعض دوستوں سے قرض لیا جائے۔اسی روز جب آپ ظہر یا جمعہ کی نماز کے لئے باہر گئے اور پھر نماز کے بعد واپس تشریف لائے تو فرمایا کہ ایک غریب آدمی جس کے کپڑے بھی پھٹے ہوئے تھے اس نے میرے ہاتھ میں ایک پوٹلی دی تھی اس کے کپڑے اتنے پھٹے ہوئے اور بوسیدہ تھے کہ میں نے سمجھا اس پوٹلی میں چند پیسے ہوں گے لیکن دراصل اس میں سوا دو سو روپے تھے۔آپ نے فرمایا کہ ابھی میرے دل میں قرضہ لینے کا خیال تھا مگر خدا تعالیٰ نے خود ہی ضرورت کو پورا کر دیا تو بعض اوقات اللہ تعالیٰ دُنیا میں بھی بندوں کی ضرورتوں کے لئے روپیہ مہیا کر دیتا ہے۔چند سال ہوئے مجھے ایک مکان کی تعمیر کے لئے روپیہ کی ضرورت پیش آئی۔میں نے اندازہ کرایا تو مکان کے لئے اور اس وقت کی بعض اور ضروریات کے لئے دس ہزار روپیہ