خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 291

خطبات محمود ۲۹۱ سال ۱۹۳۹ء در کا رتھا۔میں نے خیال کیا کہ جائداد کا کوئی حصہ بیچ دوں یا کسی سے قرض لوں۔اتنے میں ایک کی دوست کی پیٹھی آئی کہ میں چھ ہزار وپیہ بھیجتا ہوں اس کے بعد چار ہزار باقی رہ گیا۔ایک تحصیلدار دوست نے لکھا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہمیں دس ہزار روپیہ کی ضرورت تھی۔اس میں سے چھ ہزار تو مہیا ہو گیا ہے باقی چار ہزار تم بھیج دو۔مجھے تو اس کا کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آیا اگر آپ کو کوئی ذاتی ضرورت یا سلسلہ کے لئے درپیش ہو تو میرے پاس چار ہزار روپیہ جمع ہے میں بھیج دوں۔میں نے انہیں لکھا کہ واقعی صورت تو ایسی ہے۔بعینہ اسی طرح ہوا ہے۔گو یا ضرورت مجھے تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے منہ سے کہلوانے کی بجائے اس دوست کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منہ سے کہلوا دیا۔نہ اسے علم تھا کہ مجھے دس ہزار کی ضرورت ہے اور یہ کہ اس میں کی سے کسی نے چھ ہزار بھیج دیا اور اب صرف چار ہزار باقی ہے اور نہ مجھے علم تھا کہ اس کے پاس روپیہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے خود ہی تمام انتظام فرما دیا۔تو بعض اوقات ایسے مواقع اللہ تعالیٰ خود ہی بہم پہنچا دیتا ہے۔اس کے خاص بندوں کے لئے یہ صورت عام ہوتی ہے اور عام بندوں کے لئے شاذ کے طور پر لیکن سب ہی کے لئے حقیقی نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے جو روحانی طور پر آتی ہے۔وہ اس دُنیا میں معرفت کے رنگ میں اور آخرت میں روحانی نصرت کی صورت میں آتی ہے۔گو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا میں بھی بدلے ملتے ہیں مگر وہ اصل بدلہ کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہوتے ہیں۔اکثر حصہ اگلے جہان میں ہی ملتا ہے اور اگلے جہان کے بدلہ کی قیمت وہی جانتا ہے جو اسے سمجھتا ہے دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔نادان کی نگاہ میں وہ حقیر چیز ہے مگر جو اس کی قیمت کو سمجھتے ہیں ان کے نزدیک اس سے زیادہ قیمتی چیز اور کوئی نہیں ہوتی۔یہی صحابہ جن کا میں نے ذکر کیا ہے کہ جنگ میں شامل ہونے سے رہ گئے تھے ان میں سے ایک جنہیں مالی توفیق تو تھی مگر شامل نہ ہوئے تھے ان کے نزدیک رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کے مقابلہ میں دولت کی کوئی قیمت باقی نہ رہ گئی تھی اور اُنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے تو میں اپنی ساری دولت خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دوں گا اور جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی معافی کا اعلان فرمایا تو اُنہوں نے