خطبات محمود (جلد 20) — Page 273
خطبات محمود ۲۷۳ سال ۱۹۳۹ء سات سوسال بعد کی لکھی ہوئی ہے۔اگر اُس وقت کا مصنف آج دنیا میں آجائے اور ہمارے ملک میں پھرے تو وہ دیکھتے ہی کہنے لگ جائے گا کہ یہ عیسائیوں کا ملک ہے اور اگر وہ عیسائیوں کی کے ملک میں پھرے تو ان کو دیکھتے ہی کہنے لگ جائے گا کہ یہ مسلمانوں کا ملک ہے کیونکہ جو نقائص اُس وقت عیسائیوں میں پائے جاتے تھے وہ آج مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں اور جو خو بیاں اُس وقت مسلمانوں میں پائی جاتی تھیں وہ آج عیسائیوں میں پائی جاتی ہیں۔تو میں نے خدام الاحمدیہ کے سپرد یہ کام کیا تھا کہ وہ ان پڑھوں کو پڑھائیں اور ان کی تعلیم کا انتظام کریں۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض دوست اخلاص سے تعلیم میں حصہ لے رہے اور شوق اور تندہی سے ان پڑھوں کو پڑھا رہے ہیں اور پڑھنے والے بھی دلچسپی سے پڑھ رہے ہیں مگر اس کے مقابلہ میں بعض ایسے لوگ بھی معلوم ہوئے ہیں جو پڑھنے سے جی چراتے ہیں اور کی بعض وہ لوگ بھی معلوم ہوئے ہیں جو پڑھانے میں حصہ نہیں لے رہے۔حتی کہ بعض محلوں کے پریذیڈنٹ بھی اس بارہ میں خدام الاحمدیہ کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔اُنہوں نے مجھے ریکارڈ بھجوایا ہے جس کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض محلوں کے پریذیڈنٹوں کو توجہ دلائی گئی مگر اُنہوں نے پرواہ ہی نہیں کی اور بعضوں نے تو جواب تک دینے کی ضرورت نہیں سمجھی حالانکہ اگر وہ کام نہیں کر سکتے تو ان کا دیانتداری کے ساتھ یہ فرض ہے کہ وہ اپنا کام دوسروں کے سپردی کر دیں اور خود پریذیڈنٹی سے الگ ہو جائیں سلسلہ کے عہدے نام کے لئے نہیں بلکہ خدمت کے لئے ہوتے ہیں اور جتنا زیادہ کوئی شخص کام کرتا ہے اسی قدر زیادہ وہ عزت کا مستحق سمجھا جاتا ہے اور جتنا کوئی شخص کم کام کرتا ہے اُسی قدر اس کی عزت دلوں میں سے کم ہو جاتی ہے۔پس مجھے تعجب بھی ہوا اور افسوس بھی کہ بعض محلوں کے پریذیڈنٹوں نے اپنی ذمہ داری کو قطعاً نہیں سمجھا اور باوجود اس بات کے کہ جس امر کی طرف انہیں خدام الاحمدیہ کی طرف سے توجہ دلائی کی گئی تھی وہ ان کے محلہ کے فائدہ کی تھی پھر بھی اُنہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔اُن کی مثال کی بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی ٹھنڈے ملک کا رہنے والا جیٹھ ہاڑ کے دنوں میں دھوپ میں بیٹھا تھا اور قریب ہی اس کے سایہ تھا۔کسی راہ گزر نے اُسے کہا کہ میاں دھوپ میں کیوں بیٹھے ہو سائے میں کیوں نہیں آ جاتے ؟ وہ کہنے لگا سائے میں بیٹھ تو جاؤں مگر مجھے دو گے کیا ؟