خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 27

خطبات محمود ۲۷ سال ۱۹۳۹ء کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔یاد رکھنا چاہئے کہ دس فروری کے بعد کوئی وعدے قبول نہیں کئے کی جائیں گے۔میں نے کل دفتر سے لسٹ منگوائی تھی اور مجھے افسوس ہے کہ قادیان میں بھی ابھی ت بہت سے ایسے دوست ہیں جنہوں نے توجہ نہیں کی وہ ایسے نہیں کہ ہم خیال کریں کہ مالی مشکلا۔کی وجہ سے حصہ نہیں لے سکے بلکہ ایسے ہیں کہ جو کسی نہ کسی صورت میں حصہ لے سکتے ہیں۔باہر کی بعض بڑی جماعتوں کی فہرستیں بھی تاحال نہیں آئیں۔جیسا کہ دفتر کی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے میں جانتا ہوں کہ وعدوں کا زور آخری دنوں میں بہت ہوتا ہے۔جو مخلص ہیں وہ تو پہلے دنوں میں ہی توجہ کرتے ہیں پھر درمیان میں رو کم ہو جاتی ہے اور پھر جب آخری دن ہوتے ہیں تو پھر رو تیز ہو جاتی ہے کیونکہ دوستوں کو خیال ہوتا ہے کہ اب وقت ختم ہونے کو ہے مگر ان کو اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ دس فروری کے بعد یا باہر کے جس خط پر گیارہ فروری کے بعد کی مہر ہو گی ایسا کوئی وعدہ قبول نہیں کیا جائے گا۔جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک جماعت خدمت کرنے والوں کی تیار کرنا چاہتا ہے اور کئی لوگوں کے خوابوں سے اس کی تائید ہوچکی ہے۔سینکڑوں لوگوں کو اس کے متعلق الہامات ہو چکے ہیں تو پھر پیچھے رہنا کس قدر بدنصیبی ہے۔پس ہر ایک شخص جو تھوڑا بہت بھی حصہ لے سکتا ہے مگر نہیں لیتا اس کی بدقسمتی میں کوئی شبہ نہیں۔کئی لوگ محض اس لئے ہچکچاتے ہیں کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ پہلے ہم نے زیادہ حصہ لیا تھا کی اب کم کس طرح لیں۔حالانکہ شرائط کے مطابق ایسا کرنا جائز ہے۔اس سے زیادہ حماقت اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو شخص سابقون میں شامل نہ ہو سکے وہ دوسرے درجہ میں بھی نہ ہو۔ایسا خیال کرنا نادانی اور ثواب کی ہتک ہے۔ثواب خواہ کتنا ہی تھوڑا کیوں نہ ہوضرور حاصل کرنا چاہئے۔اگر کسی نے پچھلے سال سو روپیہ دیا مگر اس سال وہ سمجھتا ہے کہ میں پانچ ہی دے سکتا ہوں اور اس کی لئے چندہ لکھوانے سے رُکتا ہے کہ اس سے میری ہتک ہو گی تو وہ عزت کو ثواب پر مقدم کرتا جی ہے۔حالانکہ ثواب کو عزت پر مقدم کرنا چاہئے۔اگر تو وہ واقعی معذور ہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے پانچ بھی پانچ سو کے برابر ہیں اور اگر وہ معذور نہیں تو جو درجہ وہ ایمان کا اپنے لئے تجویز کرتا ہے اُسی کے مطابق اللہ تعالیٰ سے اجر پائے گا۔