خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 260

خطبات محمود ۲۶۰ سال ۱۹۳۹ء ہوائی جہاز میں جا کر جہاز کو پکڑ سکتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ اس میں خرچ بہت زیادہ ہو گا کل کیوں نہ چلے جائیں ؟ اُس وقت خواب میں میں محسوس کرتا ہوں کہ گویا ہم مصر میں ہیں اور حج کے لئے جار ہے ہیں۔میری یہ بات سُن کر غالبا در دصاحب نے کہا کہ ہمارا بھی یہی خیال تھا کہ کل چلے جائیں تو اچھا رہے گا۔اس پر میں نے کہا کہ ہمیں ایک دن مل گیا ہے کیوں نہ قاہرہ کی مستورات کو دکھالیں؟ گویا اس وقت ہم کسی ساحل بحر کے شہر میں ہیں۔انہوں نے میری اس رائے کی تصدیق کی ہے مگر معا مجھے خیال آیا کہ قاہرہ تو میں نے دیکھا ہوا ہے (اور واقعی دیکھا ہوا ہے ) اسکندر یہ نہیں دیکھا وہاں چلے چلیں۔مستورات نے تو نہ قاہرہ دیکھا ہے اور نہ اسکندریہ اس لئے ان کے واسطے تو برابر ہے خواہ کہیں چلے جائیں۔بہر حال اس وقت میں وہ ایک ہی شہر دیکھ سکتی ہیں مگر مجھے اسکندریہ دیکھنے کا موقع مل جائے گا اس پر مولوی ابوالعطاء صاحب جو اس وقت سامنے بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں کہتے ہیں کہ مجھے بھی یہی خیال آ رہا تھا کہ آپ سے کہوں کہ آپ اسکندریہ ہو آئیں۔اتنے میں ذوالفقار علی خان صاحب نظر آئے اور وہ کہتے ہیں کہ یہاں کی کے تجار کے بعض لیڈر جو گویا ان کی مجلس اعلیٰ کے ممبر ہیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں ، ایک دومنٹ ہی لیں گے۔میں کہتا ہوں کہ وقت بہت ہو گیا ہے ابھی ہم نے کھانا بھی نہیں کھایا اور صبح روانہ کی ہونا ہے مگر خیر آپ ان کو لے آئیں۔چنانچہ وہ لے آئے اور ایک نیم دائرہ کی صورت میں کی کھڑے ہو گئے۔ان میں بعض ترکی لباس میں ہیں اور بعض عربی میں ہیں ان سے مصافحہ کرتا ہی ہوں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کچھ باتیں کرنی ہیں۔جہاں ہم ہیں وہاں سنگ مرمر کا اچھا فرش ہے اس پر کپڑے بچھا دیئے گئے اور ہم اس پر بیٹھ گئے۔میں ان سے کہتا ہوں کہ ہمیں ہندوستان میں عربی میں گفتگو کرنے کی مشق نہیں ہوتی اس لئے اگر میں آہستہ آہستہ بات کروں تو آپ گھبرائیں نہیں۔آپ کا جواب بہر حال آجائے گا۔اس پر ان میں سے ایک نے نہایت خطر ناک بگڑی ہوئی گنواری عربی زبان میں کوئی بات کی میں نے اُسے کہا کہ ہم تو قرآن کریم می کی زبان ہی جانتے ہیں آپ لوگوں کی بگڑی ہوئی زبان نہیں سمجھتے۔بلکہ ہم میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی عربی عربی ہی نہیں اس پر ایک شخص ان میں سے کہتا ہے کہ ہاں ہماری زبان بہت خراب ہو گئی ہے اور قرآنی زبان سے بہت دُور جا چکی ہے۔اس کے بعد ان میں سے