خطبات محمود (جلد 20) — Page 213
خطبات محمود ۲۱۳ سال ۱۹۳۹ء پنجابی اور اُردو کے کلمات پڑھ لئے جائیں مگر یہ دوسری چیز بڑی خرابیاں پیدا کرنے والی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس طریق سے افراد کو فائدہ ہوتا ہے مگر قو میں اس سے بالکل تباہ ہو جاتی ہیں اور ترجمے بدلتے بدلتے کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔آخر وہ ترجمے ہی تھے جن کی وجہ سے عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بجائے خدا تعالیٰ کا برگزیدہ رسول تسلیم کرنے کے خدا اور خدا کا بیٹا بنا دیا۔حقیقت یہ ہے کہ ہر زبان میں بعض ایسے محاورے ہوتے ہیں جن کا دوسری زبان میں اگر لفظی ترجمہ کیا جائے تو مفہوم بالکل بدل جاتا ہے۔اب یہ ایک عبرانی محاورہ ہے کہ جب کسی کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہا جائے تو اس کے معنی خدا تعالیٰ کے پیارے کے ہوتے ہیں۔جب تک عیسائی عبرانی سے تعلق رکھتے رہے جہاں اس قسم کا کوئی فقرہ آتا وہ فوراً سمجھ جاتے کہ اس کے معنی خدا تعالیٰ کے پیارے کے ہیں مگر جب یونانی میں انجیل کا ترجمہ ہوا تو ترجمہ کرنے والوں نے اس محاورہ کا ترجمہ بجائے خدا کے پیارے کے خدا کے بیٹے کر دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں آنے والے عیسائیوں نے یہ سمجھ لیا کہ حضرت مسیح سچ سچ کی خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے۔اس خرابی کو اس امر سے اور بھی مدد ملی کہ یونانی لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ حضرت مسیح ( سچ سچ اس کے بیٹے ) کا سابق مذہب ایسا تھا کہ اس میں بعض لوگوں کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا جاتا تھا۔پس اُنہوں نے حضرت مسیح کے متعلق جب یہ لکھا ہوا دیکھا کہ وہ خدا کے بیٹے تھے تو انہوں نے کچھ اپنے پرانے عقائد کی بناء پر اور کچھ لفظی غلطی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انہیں حقیقی معنوں میں خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دے دیا۔اب اگر اصل کتاب عبرانی میں ہی رہتی تو چونکہ عبرانی محاورہ میں اس کے معنی پیارے کے ہیں اس لئے ان الفاظ سے کسی کو دھوکا نہ لگتا اور نہ شرک کا عقیدہ پھیلتا۔اسی طرح ہندوؤں میں اوتار کا لفظ ہے یہ بھی ہندوؤں کا ایک محاورہ ہے لیکن اگر اس کا کی اُردو یا پنجابی میں ہم لفظی ترجمہ کریں تو اس کے معنی یقیناً نبی کے نہیں رہ سکتے بلکہ ایسے معنی بن جاتے ہیں جس میں خدا تعالیٰ کے نزول اور حلول کو بعض اجسام میں تسلیم کرنا پڑتا ہے۔تو تراجم کا ایک بہت بڑا نقص یہ ہے کہ زمانہ کے تغیرات کے ساتھ ساتھ مذاہب میں بھی تغیر آ جاتا ہے اور کی عقائد تک بدل جاتے ہیں اور اس کی وجہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ ہے کہ بعض محاورے