خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 214

خطبات محمود ۲۱۴ سال ۱۹۳۹ء ایک ملک میں ہوتے ہیں مگر دوسرے میں نہیں۔اُردو میں ہی محاورہ ہے کہتے ہیں فلاں شخص کی آنکھ بیٹھ گئی۔اب جب بھی کوئی شخص یہ محاورہ سنتا ہے وہ ہر گز یہ خیال نہیں کرتا کہ کسی شخص کی تی آنکھ کے پیر اور گھٹنے تھے اور وہ ان گھٹنوں کو تہہ کر کے زمین پر بیٹھ گئی بلکہ آنکھ بیٹھنے کے معنی ہر اُردو دان یہی سمجھتا ہے کہ آنکھ ضائع ہو گئی لیکن اگر اس محاورہ کا انگریزی میں ہم لفظی ترجمہ کریں تو یا تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ ہم پاگل ہو گئے یا یہ کہیں گے کہ یہ ان کا کوئی خاص عقیدہ ہوگا مثلاً اگر ہم اس کی آنکھ بیٹھ گئی کا ترجمہ انگریزی میں یہ کریں کہ ہر آئی سی His eye S) تو لوگ یا تو یہ سمجھیں گے کہ یہ ان کا عقیدہ معلوم ہوتا ہے کہ آنکھیں آدمی ہوتی ہیں اور وہ بیٹھ بھی جایا کرتی ہیں یا یہ کہیں گے کہ کہنے والے پاگل ہیں ان کے اندر اتنی بھی عقل نہیں کہ یہ سمجھ سکیں آنکھیں بیٹھا نہیں کرتیں مگر اُردو جاننے والا کوئی شخص اس غلطی میں مبتلا نہیں ہو گا وہ یہ فقرہ سُنتے ہی کہہ دے گا کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ آنکھ جاتی رہی۔تو ترجمے میں مفہوم چونکہ کچھ کا کچھ بدل جاتا ہے اس لئے اصل کو نظر انداز کر کے ترجمہ رائج کر دینا مذہب کو بگاڑ دینے کا موجب ہو جاتا ہے۔پس خالی ترجمے پر ایسی صورت میں انحصار رکھنا جبکہ اصل الفاظ ساتھ نہ ہوں ایک نہایت خطر ناک بات ہے اور خالی اصل الفاظ کو رٹنا جب کہ اس کا ترجمہ انسان کو نہ آتا ہو یہ بھی کوئی کی مفید بات نہیں۔مکمل فائدہ انسان کو اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جبکہ اُسے عربی بھی آتی ہوتی ر اس عربی کا ترجمہ بھی آتا ہو۔جب وہ قرآن کو عربی میں پڑھے اور اپنی زبان میں اس کا مطلب سمجھے، نماز کو عربی میں ادا کرے اور ساتھ ہی نماز کا مفہوم بھی سمجھتا جائے اور ذکر الہی بھی کی عربی میں کرے مگر ذکر الہی کے ساتھ ساتھ اس کے مطالب سے بھی آگاہ ہوتا چلا جائے۔اگر ہم اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو جائیں تو دشمن کا اعتراض بھی جاتا رہتا ہے اور قوم کو فائدہ بھی حاصل ہو جاتا ہے۔اس صورت میں ہم دشمن سے کہہ سکتے ہیں کہ تمہارا یہ اعتراض کہ مسلمان کی محض الفاظ کو رٹتے ہیں حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے درست نہیں۔کیونکہ ہم میں سے ہر شخص نماز کا ترجمہ جانتا ہے اور جو کچھ وہ نماز میں کہ رہا ہوتا ہے اُس کے مفہوم کو وہ خوب سمجھ رہا ہوتا ہے اس کے مقابلہ میں صرف ترجمے سے تم کو دھو کا لگ سکتا ہے مگر ہمیں اس قسم کا کوئی دھوکا نہیں لگ سکتا