خطبات محمود (جلد 20) — Page 198
خطبات محمود ۱۹۸ سال ۱۹۳۹ء پہلے مسلمان یہ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی شخص کسی فن میں بھی ان سے آگے بڑھ جائے لیکن کی اب تو یہ حالت ہے کہ جب مسلمان کسی کو اپنے سے آگے بڑھتا ہوا دیکھتے ہیں تو بجائے اس کے کہ ان میں کوئی غیرت پیدا ہو وہ کندھے ہلاتے ہوئے گزر جاتے ہیں کہ ہمیں کیا۔مومن میں یہ غیرت ہونی چاہئے کہ کسی فن میں بھی کوئی اس سے آگے نہ بڑھنے پائے۔پس ہر احمدی کو کوئی نہ کوئی پیشہ اور فن ضرور سیکھنا چاہئے اور اس کے لئے جماعت کے پیشہ ور دوست اپنے نام لکھوائیں کہ وہ کس حد تک اپنا کام دوسروں کو سکھا سکتے ہیں اس سکیم کو عملی صورت دینے کے لئے میں بعد میں کمیٹیاں مقرر کر دوں گا۔میرا مطلب یہ ہے کہ یہ پیشے کی اس حد تک ہر شخص کو آ جائیں کہ وہ اپنے گھر میں بطور شغل ان کو کر سکے اور پھر انہیں ترقی دے سکے۔جب کوئی پیشہ معمولی طور پر آجائے تو پھر رغبت سے اسے بڑی ترقی دی جاسکتی ہے۔پیشوں کے علاوہ بعض فنون بھی ایسے ہیں جو سیکھنے چاہئیں۔جنگ عظیم کے زمانہ میں ولایت میں ایک شخص بارکر نامی تھا اس کے متعلق بہت شور پڑا کہ وہ ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جوڑ دیتا ہے۔وہاں یہ بات خلاف قانون ہے کہ کوئی شخص بغیر سرٹیفکیٹ حاصل کئے سرجری کا پیشہ اختیار کرے۔اس لئے اس پر مقدمہ چلایا گیا مگرسینکڑوں فوجیوں نے شہادتیں دیں کہ اس شخص نے ہماری ایسی ہڈیاں جوڑ دی ہیں جن کو ڈاکٹر لا علاج قرار دے چکے تھے۔آخر گورنمنٹ کو اُسے سرٹیفکیٹ دینا پڑا۔یہاں قادیان میں بھی بعض لوگ ایسے فن جانتے ہیں اور باہر بھی ہیں۔بعض نائی یا اور لوگ ہیں کی جو ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جوڑ دیتے ہیں یا بڑے بڑے خراب زخم اچھے کر دیتے ہیں۔مجھے خود یاد ہے بچپن میں میرے پاؤں میں ایک دفعہ سخت چوٹ لگی تھی اور وہاں کبھی کبھی شدید درد ہوتا تھا۔یہاں ایک دوست کی بیوی کو یہ فن آتا تھا کہ ایسی چوٹوں کا علاج کر سکے۔ایک دفعہ میاں بیوی میں جھگڑا ہوا اور بیوی میرے پاس شکایت لے کر آئی کہ میرا خاوند مجھے اس کام سے روکتا ہے اور کہتا ہے کہ غیر مردوں کی چوٹوں پر مالش وغیرہ نہیں کرنے دوں گا یہ نا جائز ہے۔میں نے کہا تی کہ یہ بات تو صحیح نہیں۔احادیث سے تو ثابت ہے کہ صحابہ میں عورتیں ہی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں لیے اس وقت تو مجھے خیال نہ آیا مگر بعد میں جب ایک دفعہ اس درد کا حملہ ہوا تو میں نے پتہ کرایا وہ عورت تو فوت ہو چکی تھی مگر مجھے بتایا گیا کہ اس نے اپنی لڑکی کو وہ فن سکھا یا ہوا ہے۔