خطبات محمود (جلد 20) — Page 197
خطبات محمود ۱۹۷ سال ۱۹۳۹ء اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اسے ختم کرنے کا سہرا بھی انہی کے سر ہو مگر جماعت کے تجربہ کا رلوگوں کی کو چاہئے کہ ان کو مدد دیں اور مختلف علاقے مختلف لوگوں کے سپر د کر دیئے جائیں۔مثلاً حلقہ مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ وغیرہ مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر میر محمد اسحاق صاحب کے سپرد کیا جا سکتا ہے وہ اس معاملہ میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور کئی مرتبہ مجھ سے اس کے متعلق گفتگو بھی کر چکے ہیں۔اسی طرح بعض علاقے مولوی ابو العطاء صاحب کے سپرد کئے جا سکتے ہیں اور بھی تجربہ کار لوگوں کے سپر د مختلف حلقے کر کے ان کو کام کرنے کے لئے کارندے دے دیئے جائیں تو یہ کام سہولت سے ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ ایک زائد بات بھی میرے خیال میں ہے میرے خیال میں خالی پڑھنا لکھنا کافی نہیں بلکہ کتابی تعلیم کی نسبت عملی تعلیم کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اسی لئے میں نے تحریک جدید میں یہ بات بھی رکھی تھی کہ کوئی شخص بے ہنر نہ رہے۔ہراحمدی کو کوئی نہ کوئی پیشہ آنا چاہئے اور اس لئے میں صرف لفظی تعلیم پر بس نہیں کروں گا بلکہ کوشش کروں گا کہ ہر فرد کوئی نہ کوئی پیشہ جانتا ہو، کوئی نجاری ، کوئی لوہار کا کام، کوئی موچی کا کام، کوئی کپڑ ائبنا اور کوئی معماری وغیرہ جانتا ہو۔غرضیکہ ہر شخص کوئی نہ کوئی پیشہ اور فن جانتا ہو۔اسی طرح بعض اور باتیں جو عملی زندگی میں کام آنے والی ہیں وہ بھی سیکھنی چاہئیں۔میں انہیں کھیلیں نہیں بلکہ کام ہی سمجھتا ہوں مثلاً گھوڑے کی سواری، تیرنا، کشتی چلا نا اور تیراندازی وغیرہ ہیں۔ہر احمدی کوشش کرے کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی کام سیکھے اور ہو سکے تو سب سیکھے۔حضرت خلیفہ اول کئی بار یہ واقعہ سُنایا کرتے تھے اور اُن سے سُن کر میں نے بھی کئی دفعہ سُنایا ہے کہ حضرت اسماعیل شہید ایک دفعہ دہلی سے اپنے پیر حضرت سید احمد بریلوی صاحب سے جو افغانستان کی سرحد پر سکھوں کے ساتھ لڑنے کی تیاری کر رہے تھے ملنے کے لئے جارہے تھے۔جب وہ اٹک پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ یہاں ایک سکھ ایسا اچھا تیراک ہے کہ کوئی اُس کا حج مقابلہ نہیں کر سکتا۔انہوں نے پوچھا کہ کیا کوئی مسلمان بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ؟ انہیں بتایا کہ گیا کہ نہیں۔یہ سن کر باوجود یکہ وہ ایک نہایت اہم کام پر جارہے تھے وہیں ٹھہر گئے ، تیرنے کی مشق کی ، اس سکھ سے مقابلہ کیا اور پھر اُسے شکست دے کر آگے بڑھے۔یہ ایمانی غیرت ہے۔