خطبات محمود (جلد 20) — Page 170
خطبات محمود ۱۷۰ سال ۱۹۳۹ء اس سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے ایک دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ مغرب کی فرض نماز کی تین رکعتیں کیوں مقرر ہیں اور ان رکعتوں کی تعداد تین مقرر کرنے میں کیا حکمت ہے؟ میں چونکہ بعض خطبات اور خطوط وغیرہ میں نماز کی رکعتوں کی حکمت کے متعلق وقتا فوقتا بعض باتیں بیان کر چکا ہوں اس لئے میں نے انہیں کہا کہ بعض دوستوں کے خطوں کے جوابات اور خطبوں کی وغیرہ میں ایسی باتیں چھپ چکی ہیں آپ اگر معلوم کرنا چاہیں تو انہیں تلاش کر کے دیکھ لیں۔وہ ایک دعوت کا موقع تھا جب یہ سوال میرے سامنے پیش ہوا اور پھر اس کے بعد اور باتیں شروع ہو گئیں اور اس سوال کا خیال میرے ذہن سے بالکل جاتا رہا۔اس کے بعد ایک دن گزرا، پھر دوسرا دن گزرا اور پھر تیسرا دن شروع ہو گیا۔تیسرے دن مغرب کی نماز کے بعد سنتیں پڑھ کر میں تشہد میں بیٹھا تھا اور سلام پھیرنے کے قریب تھا کہ یکدم اللہ تعالیٰ نے مغرب کی نماز کی تین رکعتیں مقرر کرنے کی ایک جدید حکمت میرے دل میں ڈال دی اور عین سلام پھیرنے کے قریب جس طرح بجلی کی رو جسم میں سرایت کر جاتی ہے اُسی طرح وہ علم میرے دل کی پر نازل ہوا اور وہ یہ تھا کہ نماز میں اللہ تعالیٰ نے دو قسم کی بنائی ہیں۔کچھ فرض نمازوں کا تو وہ حصہ جو دن میں ادا کیا جاتا ہے اور کچھ فرض نمازوں کا وہ حصہ ہے جو رات کے وقت ادا کیا جاتا ہے۔کیونکہ دن اور رات کی نمازوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلانا کی چاہتا ہے کہ انہیں خوشی کی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہئے اور مصیبتوں کے وقت میں بھی اس کی عبادت میں مشغول رہنا چاہئے۔ترقی کے زمانہ میں بھی اس کی طرف جھکنا چاہئے اور تنزل کے زمانہ میں بھی اِس کے دروازہ پر گرا رہنا چاہئے تو اس حکمت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کو دو حصوں میں منقسم کر دیا اور ایک حصہ تو دن میں رکھا اور دوسرا حصہ رات میں۔اس طرح پانچ نمازیں چوبیس گھنٹوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں اور تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد انسان کو نماز پڑھنی پڑتی ہے۔دوسری طرف ہمیں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون نظر آتا ہے کہ وہ طاق چیزوں کو پسند کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالی طاق چیزوں کو پسند کرتا ہے وہ خود بھی ایک ہے اور دوسری اشیاء کے متعلق بھی وہ یہی پسند کرتا ہے کہ