خطبات محمود (جلد 20) — Page 169
خطبات محمود ۱۶۹ سال ۱۹۳۹ء نو ہمیشہ انتڑیوں کی جگہ کو معدہ سمجھتے ہیں یعنی جو قولن کی بڑی انتڑی ہوتی ہے ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ ہمیشہ اُسی کو معدہ سمجھتا ہے اور دل میں یہ خیال کر کے خوش رہتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ڈاکٹری میں بھی جانتا ہوں وہ ہمیشہ انتڑیوں کی جگہ کو معدہ سمجھتا ہے اور ہاتھ لگا کر کہتا ہے کہ میرے معدے میں در دہورہا ہے حالانکہ وہ درد معدہ میں نہیں بلکہ انتری میں ہوتا ہے۔تو تعلیم یافتہ طبقہ کو بھی صحیح طور پر ان اعضاء کا علم نہیں ہوتا۔گجا یہ کہ غیر تعلیم یافتہ طبقہ کو ان باتوں کا علم ہو مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ کیا تم نے کبھی دیکھا کہ اس علم کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ کہہ دے کہ میں اس وقت تک اپنے بیٹے سے محبت نہیں کر سکتا جب تک اس کا پیٹ چاک کر کے یہ دیکھ نہ لوں کہ اس کا معدہ کہاں ہے اور جگر کہاں ہے اور تلی کہاں ہے اور پھیپھڑے کہاں ہیں؟ پھر جب اپنے بیٹے کے متعلق انسان ایسی بحثوں میں نہیں پڑتا تو خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق وہ کیوں اپریشن کرنا چاہتا ہے اور کیوں یہ خیال کرتا ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق میرا فلاں فلاں سوال حل نہ ہو جائے اُس وقت تک میرا دل اس سے محبت نہیں کر سکتا۔اگر خدا تعالیٰ کے بے شمار احسانات انسانوں پر ثابت ہو جائیں ، اگر یہ واضح ہو جائے کہ انسان کو ہر لمحہ خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کی رضا کی ضرورت ہے، اگر اس کے قرب کی راہیں انسان پر کھل جائیں ، اگر عرفان اور محبت الہی کی ضرورت انسان پر واضح ہو جائے اور اگر یہ بات کھل جائے کہ ہر انسان اس بات کا محتاج ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے تو پھر انسان کو اس سے کیا کہ خدا ازلی ابدی کیونکر ہو گیا؟ وہ غیر محدود کس طرح ہو گیا ؟ اُس نے نیست سے ہست کس طرح کر دیا ؟ تم ان باتوں کو چھوڑ دو کہ ان کا محبت الہی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ کسی انسان کی یہ طاقت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے بے انتہاء اندرونی اسرار کو معلوم کر سکے تو ہر بات کی حکمت سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ محبت کے لئے صرف اس قدر معرفت ضروری ہے کہ انسان کو وہ کی محاسن اور خوبیاں معلوم ہو جائیں جو اس کے محبوب کے اندر ہوں۔اُسے اس بات کی ضرورت کی نہیں ہوتی کہ وہ یہ بھی دیکھے کہ اس کے محبوب کا جگر کہاں ہے اور معدہ اور گردے اور پھیپھڑے کہاں ہیں؟ مگر پھر بھی بعض دفعہ اللہ تعالیٰ ایسی باتوں کی حکمتیں سمجھا دیتا ہے جن کی حکمتیں معلوم کرنے کی محبت اور معرفت کے لئے ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ان حکمتوں کا