خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 168

خطبات محمود ۱۶۸ سال ۱۹۳۹ء چند مہینوں میں ریٹائر ہونے والا ہوں میں نہیں بتا سکتا کہ ایک دوا کے اتنے قطروں میں کیا تھ حکمت ہے اور دوسری دوا کے اتنے گرین (GRAIN) ہونے میں کیا حکمت ہے مگر یہ یا درکھیئے کہ اگر آپ میرے نسخہ سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں تو قطروں اور گرینوں میں کوئی فرق نہ کیجئے۔یہ نسبت اگر قائم رہے گی تو نسخہ فائدہ دے گا اور اگر آپ نے نسبت قائم نہ رکھی تو پھر میں اس نسخہ کے مفید ہونے کا ذمہ دار نہیں۔آپ اگر پوچھیں کہ ان دواؤں کی مختلف نسبتوں میں کیا حکمت ہے تو یہ میں بتا نہیں سکتا مگر میرا ہمیشہ کا تجربہ ہے کہ یہی نسبت اگر اس نسخہ میں قائم رکھی جائے تو تی فائدہ ہوتا ہے ورنہ نہیں ہوتا۔اب اس نسخہ کی دواؤں کے اور ان کی نسبت میں کوئی حکمت ضرور کی تھی اور اُس ڈاکٹر کا وسیع تجربہ یہی بتا رہا تھا کہ اگر اس نسبت کو قائم رکھا جائے تو فائدہ ہوتا ہے اور اگر قائم نہ رکھا جائے تو فائدہ نہیں ہوتا مگر وہ بتا نہیں سکتا تھا کہ اس میں کیا حکمت ہے اور اُس نے ڈاکٹر صاحب کو بار بار کہا کہ اس نسخہ کے اجزاء کے اوزان میں کمی بیشی نہ ہو کیونکہ اسی نسبت سے ہزاروں لوگوں نے فائدہ اُٹھایا ہے اور اگر اس نسبت کو قائم نہ رکھا جائے تو فائدہ کی نہیں ہوتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی بعض باتوں کی حکمت انسانی سمجھ میں نہیں آتی مگر بہر حال جب ان باتوں کے فوائد ظاہر ہوں تو انسان حکمت معلوم کرنے کے جنون میں فائدہ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ہی لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ تم مج نے کبھی کسی باپ کو نہیں دیکھا ہو گا جس کی اپنے بیٹے سے اس لئے محبت کم ہوگئی ہو کہ اُسے معلوم کی نہیں اس کی تیلی کہاں ہے اور اس کا معدہ کہاں ہے اور اس کا جگر کہاں ہے اور اس کے پھیپھڑے کہاں ہیں؟ ہزاروں لاکھوں زمیندار ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ انسان کا دل کہاں ہوتا ہے اور اُس کا گردہ ، جگر ، معدہ اور پھیپھڑے کہاں ہوتے ہیں؟ شاید تم میں سے کئی اپنے دل میں کہتے ہوں گے کہ یہ کونسی بڑی بات ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ دل کہاں ہوتا ہے اور جگر کہاں ہوتا ہے اور تلی کہاں ہوتی ہے اور معدہ کہاں ہوتا ہے؟ مگر میں تمہیں بتاؤں اگر تم کسی ڈاکٹر کے سامنے کہو کہ جگر یہاں ہوتا ہے اور معدہ یہاں تو وہ فوراً تمہیں بتا دے گا کہ تم غلط سمجھتے ہو۔پھر اِن لوگوں کو جانے دو جو جانتے ہی نہیں کہ معدہ تلی ، جگر ، گردہ اور پھیپھڑے وغیرہ کہاں ہوتے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمیں ان باتوں کا علم ہے میں نے دیکھا ہے ان میں سے دس میں سے