خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 126

خطبات محمود ظاہر ہوسکتا ہے۔۱۲۶ سال ۱۹۳۹ء کہتے ہیں کوئی بادشاہ تھا اُس نے اپنے ملک کے ایک مشہور جوتشی کو بلایا اور اپنا لڑ کا اُس کے سپر د کرتے ہوئے کہا کہ اسے علم جو تش سکھا دو۔چنانچہ وہ اُسے لے گیا اور مدت تک سکھاتا رہا۔جب اُس نے تمام علم اُسے سکھا دیا تو وہ بادشاہ کے پاس اسے لایا اور کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت میں نے جوتش کا تمام علم اسے پڑھا دیا ہے اب آپ چاہیں تو اس کا امتحان لے لیں۔بادشاہ کی نے اپنی انگوٹھی کا نگینہ اپنے ہاتھ میں چھپا کر لڑکے سے پوچھا کہ تم علم جوتش سے بتاؤ کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ لڑکے نے حساب لگایا اور کہا چکی کا پاٹ۔بادشاہ نے اس جوتشی کی طرف دیکھا اور کہا تم نے اسے کیا پڑھایا ہے؟ وہ کہنے لگا حضور ! چکی کا پاٹ بھی پتھر کا ہوتا ہے اور نگینہ بھی پتھر کا ہے۔پس میرا علم تو صحیح ہے باقی اگر آپ کے لڑکے میں ذہانت نہ ہو اور وہ اتنی بات بھی نہ سمجھ سکے کہ چکی کا پاٹ ہاتھ میں نہیں آسکتا تو میں کیا کر سکتا ہوں ؟ میرا علم تو بالکل صحیح ہے۔اسی طرح میں نے یہ لطیفہ کئی دفعہ سُنایا ہے جو دراصل حضرت خلیفہ اول سے میں نے سُنا ہوا ہے کہ کوئی لڑکا تھا اُسے گاؤں کے بعض بڑے بڑے لوگوں نے کسی دوسرے علاقہ میں طب پڑھنے کے لئے بھیجا۔کیونکہ ان کے ہاں کوئی طبیب نہیں تھا۔اُنہوں نے خیال کیا کہ اگر یہ لڑکا طب پڑھ گیا تو ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی اور آئے روز جو ہمیں طبیب کے نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف رہتی ہے یہ رفع ہو جائے گی۔وہ لڑکا دوسرے علاقہ کے ایک مشہور طبیب کے پاس پہنچا اور کہنے لگا مجھے اپنے علاقہ کے رؤسا نے آپ کے پاس طب پڑھنے کے لئے بھیجا ہے کیونکہ ہمارے ہاں کوئی طبیب نہیں۔وہ کہنے لگا بڑی اچھی بات ہے اس سے زیادہ نیکی کا کام اور کیا ہوسکتا ہے ؟ طب سے خدمت خلق ہوتی ہے اور لوگوں کو نفع پہنچتا ہے۔پس یہ بہت ہی کی ثواب کا کام ہے تم میرے پاس رہو میں تمہیں تمام طب سکھا دوں گا چنانچہ وہ اُن کے پاس رہنے لگ گیا۔دوسرے ہی دن وہ کسی مریض کو دیکھنے کے لئے چلے گئے اور انہوں نے اس لڑکے کو اپنے ساتھ لے لیا۔جب مریض کے پاس پہنچے تو وہ اُس کے پاس بیٹھ گئے نبض دیکھی، حالات پوچھے اور باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ آپ نے کل کہیں چنے تو نہیں کھائے ؟ وہ کہنے لگا