خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 117

خطبات محمود 112 سال ۱۹۳۹ء۔اور پھر انہیں کھاتے ہیں۔بائیبل میں یہود کی سزا کے متعلق آتا ہے تم انسان کے پاخانہ سے روٹی پکا کر کھاؤ گے۔گو وہاں انسانی پاخانہ کا ذکر گندی شے ہے۔خواہ نسبتا کم ہو اس سے روٹی پکانی بھی یقیناً ایک سزا ہے۔مگر دیہات میں اس کی آگ جلائی جاتی ہے اور اس سے کھانا کی پکایا جاتا ہے حالانکہ اگر درخت لگانے کی عادت ڈالی جائے تو یہ کئی لحاظ سے مفید ہو۔جلانے کے لئے لکڑی بھی مل جائے ، سایہ بھی ہو اور پھر ایسے درخت لگائے جا سکتے ہیں جن کا فائدہ بھی ہو۔مثلاً شہتوت کے درخت ہیں ان پر اگر ریشم کے کیڑے چھوڑ دیئے جائیں تو ایک ایک درخت پر دس روپیہ کا ریشم تیار ہوسکتا ہے اور اگر دو چار درخت ہی اس کے لگا لئے جائیں تو گھر والوں کے کپڑے ہی اس کی آمد سے تیار ہو سکتے ہیں اور لکڑی بھی جلانے کے لئے کافی مل سکے گی۔پھر جس جگہ درخت ہوں وہاں بارشیں بھی زیادہ ہوتی ہیں اور جہاں درخت نہ ہوں وہاں بارش کم ہوتی ہے اور جب ہو تو مٹی بہہ بہہ کر وہ جگہ نشیب بن جاتی ہے۔غرضیکہ بیسیوں فوائد ہیں مگر اُپلوں کے استعمال کی وجہ سے زمیندار ان سے محروم رہتے ہیں۔اس کی وجہ سے درخت کی ضرورت بہت کم محسوس کی جاتی ہے۔اس لئے لوگ لگاتے ہی نہیں صرف بل وغیرہ کے لئے لکڑی کی ضرورت اُن کو پیش آتی ہے۔باقی کھانا وغیرہ گوبر سے پکا لیتے ہیں۔ہاتھ سے کام میں جو صفائی کا حصہ ہوتا ہے اس کے ضمن میں میں نے یہ مثال دی ہے۔اس تحریک کو عام کرنا چاہئے اور ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ اسے اس طرح پھیلائیں کہ اس کا اثر نمایاں طور پر نظر آنے لگے۔کوئی کام اس وقت تک مفید نہیں ہوسکتا جب تک قوم پر اس کا اثر نہ ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دودھ پینے کے لئے دیا۔اُس نے پیا تو آپ نے فرمایا اور پیو اس نے اور پیا تو آپ نے فرمایا اور پیو، اُس نے کہا یا رسول اللہ ! اب تو میرے مساموں میں سے دودھ بہنے لگا ہے۔" آپ کا مطلب یہ تھا کہ خدا تعالیٰ جو نعمت دے اُس کے آثار چہرہ پر ظاہر ہونے چاہئیں۔پس ہمارے سب کام اس رنگ میں ہونے چاہئیں کہ ان کا اثر ظاہر ہو جائے۔میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں اس صفائی کا بھی قائل نہیں ہوں جیسی بعض انگریز کرتے ہیں کہ ذرا سا دھبہ کپڑا میں لگ گیا تو اُسے اُتار دیا یا جیسا کہ آجکل کے بعض نوجوان کی