خطبات محمود (جلد 20) — Page 106
خطبات محمود 1+4 سال ۱۹۳۹ء زمینداروں کی سمجھ میں نہ آ سکیں اس لئے میں اسے ایک موٹی مثال سے واضح کر دیتا ہوں جس سے ہر شخص اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ایک دفعہ مجھے اطلاع ملی کہ شکر گڑھ کی تحصیل میں کی بعض ادنی اقوم ہیں جن کو آریہ ہندو بنارہے ہیں اور مجھے اطلاع ملی کہ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ اگر مسلمان ہم کو اپنے ساتھ ملالیں تو ہم مسلمان ہو جائیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہندو ہو کر بھی ہماری حالت اچھی نہ ہوگی۔کئی پیغام مجھے آئے اور میں نے ایک دو مبلغ وہاں بھیج دیئے کہ جا کر ان کی میں تبلیغ کریں اور پھر ہم ان کے لئے انتظام کرنے کی کوشش کریں گے۔پہلے پہل تو مجھے رپورٹ ملتی رہی کہ وہاں بڑا اچھا کام ہو رہا ہے اور اُمید ہے کہ سینکڑوں ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔مگر دس بارہ روز کے بعد یہ رپورٹیں آنی شروع ہوئیں کہ سخت مخالفت ہو رہی ہے اور ہمارے مبلغوں کو لوگ اپنے گاؤں میں ٹھہر نے تک نہیں دیتے۔یہ رپورٹیں سُن کر مجھے بہت حیرانی ہوئی کیونکہ وہ سارا علاقہ مسلمانوں کا ہے اور مجھے امید تھی کہ مسلمان ضروری مدد کریں گے لیکن مجھے بتایا گیا کہ اس علاقہ کے ذیلدار نے جو مسلمان ہے سب کام چھوڑ چھاڑ کی کر ہماری مخالفت شروع کر رکھی ہے اور بعض نمبر داروں کو ساتھ لے کر وہ ہمارے آدمیوں کے پیچھے پیچھے پھرتا اور ہر گاؤں میں پہنچ کر لوگوں سے کہتا ہے کہ ان کو یہاں ٹکنے نہ دو اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتا ہے کہ اگر اُنہوں نے ان لوگوں کو مسلمان بنالیا تو پھر ہمارے جو جانور مر جایا کریں گے اُنہیں کون اُٹھا کر لے جایا کرے گا اور اُن کی کھالیں کون اُتارا کرے گا ؟ اگر ان لوگوں میں یہ عادت نہ ہوتی کہ ایک خاص قسم کے کام نہیں کرنے تو ان کو اس مخالفت کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔تو بعض قسم کے کام کرنا امراء اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔زمینداروں میں بھی یہ عادت ہے کہ وہ بعض خاص قسم کے کام خود کرنا ہتک سمجھتے ہیں اور ان کو کمیوں کے کام سمجھتے ہیں۔ان کمیوں کی کی اصلاح کا سوال جب بھی پیدا ہو گا زمیندار فوراً لڑائی پر آمادہ ہو جائیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس طرح ہمارے کام رُک جائیں گے۔جب قادیان میں چوہڑوں کو اسلام میں داخل کرنے کا سوال پیدا ہوا تو میری حیرانی کی کوئی حد نہ رہی کہ بعض احمدیوں نے مجھ سے کہا کہ اگر یہ لوگ مسلمان ہو گئے تو ہمارے گھروں کی کی صفائی کون کرے گا؟ یہ وقت ان کو صرف اس وجہ سے نظر آئی کہ ان کو ایک خاص قسم کا کام کرنے کی