خطبات محمود (جلد 20) — Page 94
خطبات محمود ۹۴ سال ۱۹۳۹ء مقابلہ میں صرف ۳۱۳ آدمی ہیں۔ان میں سے کئی ایسے ہیں جنہوں نے کبھی تلوار چلائی ہی نہیں کی اور دو تو ان میں پندرہ پندرہ سال کے لڑکے ہیں اور سپاہی کہلانے کے مستحق صرف دوسو کے قریب آدمی ہیں اور یہ بھی کوئی بڑے پائے کے سپاہی نہ تھے سوائے چند کے مثلاً حضرت حمزہ، حضرت علی، حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر۔یہ ایسے خاندانوں میں سے تھے جن میں بچپن سے ہی فنونِ جنگ سکھائے جاتے تھے اور یہی چند آدمی تھے جو خاص طور پر ماہر فن سمجھے جاتے تھے باقی سب معمولی سپاہی تھے۔مگر مکہ کی طرف سے آنے والے لشکر میں ایک ایک آدمی ایسا تھا جو ہزار ہزار پر بھاری سمجھا جاتا تھا اور وہ تمام کے تمام فنونِ جنگ میں نہایت ماہر تھے۔جب مسلمانوں اور کفار کا لشکر آمنے سامنے ہو ا تو اُس وقت کسی نے سوال پیدا کر دیا کہ اس لڑائی کا فائدہ کیا ہے؟ وہ تھوڑے سے آدمی ہیں اور ہیں بھی قریباً سب مکہ کے۔انصاری اس جنگ میں بہت ہی کم ہیں۔پس یہ سب ہمارے بھائی بند ہیں اگر ہم مارے گئے تب بھی اور اگر یہ مارے گئے تب بھی دونوں صورتوں میں مکہ میں ماتم ہو جائے گا۔اس کی بات کو تو کی لوگوں نے نہ سُنا مگر اُنہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو یہ پتہ لگانے کے لئے بھیجا کہ مسلمان کتنے ہیں اور ان کے ساز و سامان کا کیا حال ہے؟ معلوم ہوتا ہے وہ آدمی نہایت ہی ہوشیار تھا۔جب وہ آیا تو اُس نے پہلے تو وہ جگہ دیکھی جہاں مسلمانوں کا کھانا تیار ہو رہا تھا۔پھر اُس نے سواریوں کا اندازہ لگایا اور واپس جا کر کہا کہ میرا اندازہ یہ ہے کہ مسلمان تین سو سوا تین سو کے قریب ہیں۔یہ کیسا صحیح اندازہ تھا جو اُس نے لگایا۔مسلمان واقعہ میں ۳۱۳ ہی تھے مگر اُس نے کہا اے میرے بھائیو! میرا مشورہ یہ ہے کہ تم لڑائی کا خیال چھوڑ دو۔ابوجہل یہ سُن کر جوش میں آ گیا اور اُس نے کہا کیوں ڈر گئے ؟ وہ کہنے لگا میں ڈر گیا ہوں یا نہیں اس کا پتہ تو میدانِ جنگ میں لگ جائے گا مگر میں یہ مشورہ تمہیں اس لئے دے رہا ہوں کہ میں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر آدمیوں کو چڑھے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ میں نے موتیں دیکھی ہیں جو ان اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھیں۔ان میں سے ہر شخص اس نیت اور اس ارادے کے ساتھ آیا ہوا ہے کہ میں مٹ جاؤں گا مگر نا کام و نامراد واپس نہیں جاؤں گا۔ان میں سے ہر شخص کا چہرہ بتا رہا ہے کہ وہ سب کے سب یا تو خود فنا ہو جائیں گے یا تم کو فنا کر دیں گے۔پس یہ مت خیال کرو کہ یہ لڑائی ویسی ہی