خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 95

خطبات محمود ۹۵ سال ۱۹۳۹ء ہو گی جیسے عام لڑائیاں ہوتی ہیں بلکہ ایک نہایت ہی اہم اور فیصلہ کن جنگ ہو گی اور یا تو وہ تی تمہیں فنا کر دیں گے اور اگر وہ تمہیں فنا نہ کر سکے تو وہ خود سب کے سب ڈھیر ہو جائیں گے مگر میدانِ جنگ سے اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گے اور ایسی قوم کو دبانا ہی مشکل ہوتا ہے جس کا ہر فرد مرنے کے لئے تیار ہو کے یہ کیسا شاندار فقرہ ہے جو اُس کی زبان سے نکلا کہ مسلمانوں میں سے ہر شخص اپنے گھر سے اسی نیت اور اسی ارادہ کے ساتھ نکلا ہے کہ میں فتح یا موت میں سے ایک چیز کو حاصل کئے بغیر واپس نہیں لوٹوں گا۔کیا مختصر سے فقرہ میں اُس نے ان تمام قلبی جذبات کا اظہار کر دیا ہے جو مسلمانوں کے قلوب میں موجزن ہو رہے تھے۔یہ فقرہ ان تاریخی فقرات میں سے ہے جو ہمیشہ یا در کھے جانے کے قابل ہیں کہ اے میرے بھائیو! میں نے آدمی نہیں دیکھے بلکہ موتیں دیکھی ہیں جو اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھیں۔پھر دیکھ لو وہی ہوا جو اُس نے کہا تھا۔وہ واقع میں موتیں بن کر ظاہر ہوئے یا تو وہ مر گئے یا تی اُنہوں نے کفار کو مار دیا جن کے لئے موت مقدر تھی وہ تو مر گئے اور جن کے لئے موت مقدر نہیں کی تھی اُنہوں نے مکہ والوں کا ایسا تہس نہیں کیا کہ مکہ کے ہر گلی کوچہ میں ماتم بر پا ہو گیا۔ہزار آدمی کا ایک ایسے شہر میں سے نکل کر لڑائی کے لئے تیار ہو جانا جس میں دس پندرہ ہزار آدمی رہتے ہوں معمولی بات نہیں۔ہر بارہ آدمی کے پیچھے ایک آدمی کا مارا جانا یا زخمی ہونا کوئی کم صد مے والی بات نہیں ہوتی لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ جو آدمی مارے گئے وہ چوٹی کے آدمی تھے تو ہم اور بھی زیادہ آسانی کے ساتھ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مکہ والوں کی کیا حالت ہوئی ہوگی ؟ اِن مارے جانے والے لیڈروں میں سے ایک ایک آدمی ایسا تھا جس پر کی ہزاروں کا گزارہ تھا۔ابو جہل عتبہ اور شیبہ یہ سب مکہ کے لیڈر تھے۔بیسیوں ان کے نوکر تھے ، بیسیوں ان کے غلام تھے، بیسیوں ان کی تجارت پر کام کرتے تھے اور بیسیوں کی حفاظت کے یہ ذمہ دار تھے۔پس ان میں سے ایک ایک آدمی تہائی یا چوتھائی شہر کا ذمہ دار تھا اور اس ایک آدمی کا مرنا صرف اس کے رشتہ داروں کے لئے ہی نہیں بلکہ ہزاروں اور لوگوں کے لئے بھی ماتم کا موجب تھا۔اس جنگ میں شکست کھانے کے بعد مکہ والوں کی ایسی دردناک کیفیت ہوگئی