خطبات محمود (جلد 20) — Page 88
خطبات محمود ۸۸ سال ۱۹۳۹ء رشوتیں لے لے کر اپنے ملک کی حکومت کو آپ تباہ و برباد کر نے کے درپے ہورہے تھے۔کیا ہی بد قسمت وہ ملک ہے جس میں ۳۳ کروڑ کی آبادی ہو مگر ملک کی خاطر چار پانچ ہزار آدمی بھی اس میں وفادار نہ ہو۔اس سے زیادہ بدقسمتی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے؟ پھر ملک کو جانے دو عقل کے ساتھ تو اُنہوں نے اپنے ساتھ بھی وفاداری نہیں کی۔حکومت تو گئی ہی تھی ، تجارت کیوں گئی؟ مگر ان کے ہاتھ سے تجارت کا نکل جانا بھی بتاتا ہے کہ یہ اپنے نفس اور اپنی ذات کے بھی وفادار نہیں۔اگر ان میں اپنے نفس کے ساتھ وفاداری کا ہی مادہ ہوتا تو ان کے ہاتھ سے تجارت کبھی نہ جاتی۔تو بد دیانتی ایسی چیز ہے جو قوموں اور افراد دونوں کو تباہ کر دیتی نی میں قوم میں دیانت آجائے ہے مگر جس قوم میں دیانت آ جائے اُسے ہر جگہ عزت حاصل ہوتی ہے اور کوئی اُسے ذلیل نہیں کر سکتا۔اسی طرح انفرادی دیانت جب کسی قوم میں پیدا ہو جاتی ہے تو وہ اقتصادی طور پر بڑھتی چلی جاتی ہے مگر یہ انفرادی دیانت دو قسم کی ہوتی ہے ایک تجارتی دیانت اور ایک اخلاقی دیانت۔جن قوموں میں اخلاقی دیانت نہ ہو مگر تجارتی دیانت ہو وہ بھی نہیں گرتیں۔چنانچہ ہندوؤں کو ہی دیکھ لو بنیے ہیں اخلاقی دیانت نہیں مگر تجارتی دیانت ہے اور اس وجہ سے وہ تجارت میں ترقی کرتا ج چلا جاتا ہے، یہودیوں میں بھی اخلاقی دیانت نہیں لیکن تجارتی دیانت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی کی تجارت روز بروز بڑھ رہی ہے اسی طرح جس قوم میں اخلاقی دیانت پیدا ہو جائے اُس کا کی اخلاقی طور پر دوسروں کے قلوب پر سکہ بیٹھ جاتا ہے اور اس قوم کے افراد جہاں جاتے ہیں لوگ ان سے مشورہ لیتے اور ان کی باتوں پر اپنے کاموں کا انحصار رکھتے ہیں لیکن جس قوم میں قومی دیانت بھی ہو، تجارتی دیانت بھی ہو اور اخلاقی دیانت بھی ہو وہ قوم تو ایک پہاڑ ہوتی ہے۔یہ ممکن ہے کہ ہمالیہ پہاڑ کو اڑایا جا سکے مگر یہ ممکن نہیں کہ اس قوم کو برباد کیا جا سکے۔ایسی قوم نہ صرف خود محفوظ ہوتی ہے بلکہ اور لوگوں کی حفاظت کا بھی موجب ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ اور قومیں حوادث اور مصائب سے بچائی جاتی ہیں اور وہ دُنیا کے لئے ایک تعویذ ہو جاتی ہے۔پس میں خدام الاحمدیہ سے کہتا ہوں کہ یہ تینوں قسم کی دیانتیں تم لوگوں کے اندر پیدا کرو۔جس کا ذریعہ تمہارے پاس موجود ہے کیونکہ نو جوانوں کی باگ تمہارے ہاتھ میں دی گئی ہے۔کی۔