خطبات محمود (جلد 20) — Page 80
خطبات محمود ۸۰ سال ۱۹۳۹ء جو انہیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔دوسری بات میں نے یہ کہی تھی کہ اسلامی تعلیم سے واقفیت پیدا کی جائے۔تیسری بات میں نے یہ کہی تھی کہ آوارگی اور بیکاری کا ازالہ کیا جائے۔اب میں چوتھی بات بیان کرتا ہوں جو یہ ہے کہ اچھے اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔اچھے اخلاق میں سے میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے بہترین اخلاق جن کا پیدا کرنا کسی قوم کی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہے وہ سچ اور دیانت ہیں۔اور بھی بہت سے اخلاق ہیں مگر سچ کی اور دیانت نہایت اہمیت رکھنے والے اخلاق ہیں۔جس قوم میں سچ پیدا ہو جائے اور جس قوم میں دیانت آ جائے وہ قوم نہ کبھی ذلیل ہو سکتی ہے اور نہ کبھی غلام بنائی جاسکتی ہے۔سچائی اور دیانت دونوں کا فقدان ہی کسی قوم کو ذلیل بناتا اور اُن دونوں کا فقدان ہی کسی قوم کو غلام بنا تاج ہے۔ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ ہندوستان کی غلامی کا ہمیشہ رونا روتا رہتا ہے لیکن اگر تم غور سے دیکھو تو تمہیں معلوم ہو کہ ہندوستان کی غلامی کا موجب انہی دو چیزوں کا فقدان ہے۔تم ہندوستان کی تاریخ کو پڑھ جاؤ اتنے بڑے وسیع ملک کا انگریزوں کے ماتحت آ جانا محض بد دیانتی کی وجہ سے تھا۔انگریزی فوجیں جو شروع زمانہ میں بعض دفعہ سینکڑوں کی تعداد سے زیادہ نہیں ہوتی تھیں کی کبھی ہندوستان پر غالب نہیں آسکتی تھیں اگر ہندوستانیوں میں دیانت پائی جاتی۔بعض دفعہ تو تاریخ پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ ساری بات ہی جھوٹی ہے اور عقل تسلیم نہیں کرتی کہ مدراس کے ایک چھوٹے سے علاقہ میں اقامت پذیر چند سو انگریز ہندوستان کی بڑی بڑی طاقتوں اور حکومتوں کو زیر کرتے چلے جائیں۔عقل اس کے باور کرنے سے انکار کرتی ہے کیونکہ انسانی فطرت اس حد تک اخلاق کی گراوٹ کو تسلیم کرنا برداشت نہیں کرتی جس قسم کی گراوٹ اس زمانہ میں ہندوستانیوں میں پائی جاتی تھی۔کسی جگہ پر تو شہزادوں کو رشوت دے دی جاتی ہے کہ اگر تم اپنے باپ یا بھائی سے بغاوت کرو تو ہم تم کو اس کی جگہ گری پر بٹھا دیں گے اور وہ بد دیانت اور ذلیل انسان اس رشوت کو قبول کر لیتے ہیں۔کسی جگہ وزراء کو یہ اُمید دلا دی جاتی ہے کہ ہم تمہاری ایک ریاست قائم کر دیں گے یا تم کو اُس ریاست کا قبضہ دے دیں گے یا اور کوئی بڑا عہدہ دے دیں گے اور وہ ننگ انسانیت