خطبات محمود (جلد 20) — Page 607
خطبات محمود ۳۸ سال ۱۹۳۹ء سورة فاتحہ روحانی دولت کا نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے میں نے جو کچھ سیکھا اسی سے سیکھا فرموده ۲۹ دسمبر ۱۹۳۹ء بمقام قادیان ) تشہد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : - در بعض معترضین یہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ خطبہ جمعہ سے پہلے میں ہر دفعہ سورۃ فاتحہ کی ہی تلاوت کیوں کرتا ہوں اور ان کے اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر دفعہ سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرنے سے خواہ مخواہ وقت ضائع ہوتا ہے لیکن حق یہ ہے کہ مجھے تو سارے قرآن کریم کی سمجھ ہی اسی سورۃ سے آئی ہے اور اس کے متعلق اللہ تعالیٰ ہمیشہ ایسے انکشافات کیا کرتا ہے کہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے جو کچھ سیکھا ہے اسی سے سیکھا ہے میں نے اس سورۃ کی تفسیر فرشتہ سے سیکھی تھی جس نے کہا کہ مجھے خدا تعالی نے اس لئے بھیجا ہے کہ آپ کو اس کی تفسیر سمجھاؤں اور میں ہمیشہ سے یہ دعوی کرتا آیا ہوں کہ جس شخص کو میری یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت میں شبہ ہو وہ میرے سامنے آئے اور سورۃ فاتحہ یا قرآن کریم کے کسی اور حصہ کی تفسیر کرے۔ یہ سورۃ ایسی ہے جو ہر مضمون اور ہر صداقت کی طرف ہمیں لے جاتی ہے اهدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهم والے کیسی با برکت دُعا ہے کونسا ہنر