خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 590

خطبات محمود ۵۹۰ سال ۱۹۳۹ ء بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہماری نیت دینے کی ہے میں سمجھتا ہوں یہ محض ان کے نفس کا دھوکا ہے ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اُن کی نیت دینے کی ہوتی اور سالوں گزر جاتے اور ان کی نیت پوری نہ ہوتی ۔ بہر حال دو باتوں میں سے ایک ضرور ہے یا تو اُن کی نیت ہی درست نہیں یا یہ ہے کہ انہیں تو فیق ہی نہیں کہ وہ وعدہ کو پورا کر سکیں ۔ اگر دوسری صورت ہے تو انہیں چندہ لکھوانے کا کوئی حق نہ تھا اور اگر چندہ لکھوانے کے بعد ان کی مالی حالت خراب ہوئی ہے تو اُن کا کوئی حق نہیں کہ وہ معافی نہ لے لیں اور صرف اس خیال میں رہیں کہ ہماری نیت دینے کی ہے جو نیت حالات کے خلاف ہوتی ہے وہ تو کوئی قیمت نہیں رکھتی ۔ اگر خالی نیست سے ہی کام چل سکتا ہے تو پھر انہیں پانچ دس روپیہ لکھوانے کی کیا ضرورت تھی وہ جرمنی یا روس کا ملک ہی چندہ تحریک میں بخش دیتے ۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ گو روس اور جرمنی ہمارے قبضہ میں نہیں لیکن خدا تعالیٰ کو تو طاقت ہے کہ وہ یہ ملک ہمارے حوالہ کر دے۔ پس ہم نے یہ نیت کر لی ہے کہ جب وہ ملک ملیں گے ہم تحریک کے چندہ میں ادا کر دیں گے مگر اس قسم کے ہوائی قلعے تیار کرنے اسلامی تعلیم کے خلاف ہیں ۔ میرے نزدیک تو ایسے لوگوں کی نیت اور ان کے وعدے ایسے ہی ہیں جیسے کہتے ہیں کہ کوئی راجہ سخت بخیل تھا۔ ایک دن اُس کے دربار میں کوئی برہمن چلا گیا اور کہنے لگا مجھے پن اے دیجئے ۔ راجہ تو بخیل تھا ہی اُس کا ولی عہد اس سے بھی زیادہ بخیل تھا۔ جب برہمن نے بن مانگا تو راجہ سخت گھبرایا کہ اب میں کیا کروں کیونکہ برہمن کو کچھ نہ دینا اُس کے وقار کے سخت خلاف تھا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا اور سوچتے سوچتے اُسے یاد آیا کہ پچھلے سال سرکاری گلے میں سے ایک گائے گم ہو گئی تھی وہی اسے دے دیں ۔ چنانچہ وہ وزیر سے مخاطب ہو کر کہنے لگا وزیر صاحب ! برہمن صاحب بن مانگتے ہیں انہیں ہم وہ گائے دیتے ہیں جو پچھلے سال ہمارے گلے میں سے گم ہوگئی تھی۔ یہ اسے ڈھونڈ لیں تو وہ ان کی ہو گئی۔ لڑکے نے جب یہ بات سنی تو اُسے فکر ہوا کہ شائد یہ برہمن اُس گائے کو تلاش ہی کرلے ۔ وہ کہنے لگا والد صاحب ! پچھلے سال کی گمشدہ گائے آپ اسے کیوں دیتے ہیں اِسے وہ گائے کیوں نہ دے دی جائے جو پرارسال مر گئی تھی ۔ تو یہ تو ویسا ہی وعدہ ہے ۔ وعدہ کا وقت گزر جاتا ہے دوسرا سال بھی شروع ہو جاتا ہے مگر اُن کا وعدہ پورا ہونے میں ہی نہیں آتا۔ میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ تم خواہ مخواہ گنہگار