خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 558

۵۵۸ سال ۱۹۳۹ ء خطبات محمود بیان فرمایا کہ مومن کی یہ شان ہے کہ اگر تلوار اس کی گردن پر پھیری جا رہی ہو تو پھر بھی وہ سچ بیان کر رہا ہوتا ہے تو شکست و فتح کا کوئی سوال نہیں ۔ مقابلے کا بھی کوئی سوال نہیں ، کمزوری کا بھی کوئی سوال نہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت بھی ایک مومن سے سچ بولنے کی توقع ظاہر کی ہے جب مخالف اُسے پچھاڑ لیتا ہے، جب وہ اُس کی چھاتی پر چڑھ جاتا اور تلوار اُس کی گردن پر رکھ دیتا ہے، جب وہ اُسے ذبح کرنے کے لئے بالکل تیار ہو جاتا ہے اور دُنیوی لحاظ سے اُس کو کوئی آس باقی نہیں رہتی ۔ ایسی نازک گھڑیوں میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ ایک مومن اپنی بات کو دہراتا چلا جاتا ہے۔ تم ان دونوں نقشوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے لاؤ اور پھر دیکھو کہ تمہارا دل ہاں وہ دل جس پر دنیوی آلائشوں سے زنگ نہ لگ چکا ہو اور بالکل پاک صاف ہو کس نظارہ سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ تم دیکھو گے کہ ایک طرف ایک بہت بڑا اسلامی لشکر ہے ۔ تمام سپاہی ساز وسامان سے آراستہ ہیں ، سامانِ حرب کی ان کے پاس کمی نہیں لشکر کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے اور تمام سپاہی فنون جنگ کے ماہر ہیں ۔ یہ اسلامی لشکر ایک بہت بڑے دشمن کے لشکر پر حملہ کرتا اور اُسے رگیدے چلے جاتا ہے یہاں تک کہ دشمن میدان جنگ سے بھاگ جاتا ہے اور مسلمان اپنی شوکت کے اظہار کے لئے زور سے الله أَكْبَرُ کا نعرہ بلند کرتے ہیں ۔ تم ایک طرف! نکھوں کے سامنے لاؤ ۔ اس نظارہ کو اپنے ذہن میں لاؤ اور دوسری طرف یہ نظار یہ نظارہ عالمِ تصور میں اپنی لاؤ کہ ایک مسلمان ایک ایسے ملک میں ہے جہاں ہر ہرط طرف جھوٹ اور فریب کا دور دورہ ہے لوگ اُس کے مخالف ہیں اور چاہتے ہیں کہ اُسے قتل کر دیں۔ ایک دن وہ یہی تہیہ کئے اُس کے گھر کا احاطہ کر لیتے اور اُسے پکڑ کر باہر نکالتے ہیں اور کہتے ہیں اسلام چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں مار دیں گے ۔ وہ کہتا ہے یہ تو نہیں ہو سکتا اسلام مجھ سے نہیں چھوٹ سکتا۔ وہ اسے مارنا شروع کر دیتے ہیں اور مارتے چلے جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ جب وہ ادھ موا ہو جاتا ہے تو وہ اُسے چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں بتا ؤ اب تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ وہ کہتا ہے میرا عقیدہ یہی ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ اِس پر وہ پھر اُسے پیٹتے ہیں اور پیٹتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ زخموں سے چور چُور ہو جاتا ہے۔ وہ پھر اُسے چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں