خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 557

خطبات محمود ۵۵۷ سال ۱۹۳۹ء خود اُن ممالک کے بعض باشندے اسلامی جھنڈا لے کر کھڑے ہوئے ہوں۔چاہے وہ تعداد میں کتنے ہی تھوڑے ہوں اور چاہے وہ کتنے ہی کمزور اور ناتواں ہوں یہ ہمارا دوسرا مقصد ہے جو تحریک جدید کے ماتحت ہمارے سامنے ہے۔غرض ہمارے سامنے بہت بڑا کام ہے۔فتح بہت دُور ہے اور منزل بہت بعید ہے۔بزدل اس لمبی مسافت سے گھبرا تا اور قر بانیوں سے جی چراتا ہے مگر بہادر انسان جانتا ہے کہ میرا یہ کام نہیں کہ میں دیکھوں مجھے فتح حاصل ہوتی ہے یا نہیں بلکہ میرا یہ کام ہے کہ جب تک میری زبان چلتی رہے میں بولتا چلا جاؤں اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور حج اُس کے دین کی اشاعت زمین پر کرتا رہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا کیا ہی عمدہ نقشہ کھینچا ہے۔آپ فرماتے ہیں ایک سچا مومن خواہ موت کے قریب پہنچ جائے دشمن اُسے قتل کرنے کے درپے ہوں اور اُس کی گردن پر خنجر پھر رہا ہو تب بھی وہ سچائی کو بیان کرتا چلا جاتا ہے کہ یہ ہمارے ہی زمانہ کا نقشہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں کھینچا۔آج ہی وہ زمانہ ہے کہ سچائی کو گند ہتھیاروں سے ذبح کیا جا رہا ہے۔آج ہی وہ زمانہ ہے کہ مسلمان کمزور اور بے بس ہیں مگر بجائے ڈرنے اور گھبرانے اور بھاگنے کے جو شخص آج کی تلوار کے نیچے بھی لا إِلَهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھتا چلا جاتا ہے وہی بہادر ہے کیونکہ موت بھی اُس کو نہیں ڈرا سکی اور مرتے وقت بھی وہ کہتا چلا گیا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ اسلام نے تو ایک بہت بڑا مقصود بنی نوع انسان کے سامنے رکھا ہے ہمارے تو دنیوی شاعر بھی بُزدلی اور دون ہمتی کے خلاف رہے ہیں چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے ؎ شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے امیر مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب که شکست اور فتح تو قسمت سے تعلق رکھتی ہے اگر قسمت نے یاوری کی تو فتح ہو گی نہ کی تو شکست ہوگی مگر مجھے خوشی ہے تو یہ کہ۔مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا ہم تو لڑتے رہے اگر فتح نہیں ہوئی اور شکست ہوگئی تو اس میں ڈر کیا کونسی بات ہے۔یہ تو ایک دُنیوی شاعر کا قول ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو کیسے عجیب رنگ میں