خطبات محمود (جلد 20) — Page 550
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء پراپیگنڈے کا اثر یہ تھا کہ آٹھ سو سال تک یورپ کے لوگوں کو پادری یہ کہ کہہ کر دھوکا اور فریب دیتے رہے کہ اسلام عورت میں روح کی موجودگی کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔وہ کہتا ہے کہ روح صرف مرد میں ہوتی ہے عورت میں نہیں ہوتی۔یہ کیسا جھوٹا پراپیگنڈا ہے جو اسلام کے خلاف کیا گیا۔اہلِ عرب جب کسی چیز کی بڑائی کا تمثیلی طور پر ذکر کیا کرتے تھے تو کہا کرتے تھے کہ فلاں بات اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔گاندھی جی نے ہندوستان میں یہ ایک نیا محاورہ جاری کیا ہے کہ فلاں بات ہمالیہ پہاڑ کے برابر ہے مگر میں حیران ہوں کہ اس جھوٹ اور فریب کا کیا نام رکھوں ؟ اس کی کے آگے تو ہمالیہ پہاڑ بھی مٹی کے ڈلے کے برابر معلوم ہوتا ہے مگر برا برسات آٹھ سوسال تک پادری مصنفوں نے لوگوں کو یہ دھوکا دیا اور کروڑوں نہیں اربوں ارب لوگوں کو اس غلط نہی میں مبتلا رکھا کہ اسلام عورتوں کو بے جان اور بے روح تسلیم کرتا اور اسے مردوں کے لئے دل کی بہلانے کا ایک کھلونا تصور کرتا ہے۔وہ قوم جس کے اپنے مذہب میں عورت کو کوئی حیثیت نہیں کی دی گئی اس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اتنا بڑا افترا کیا اور اس قوم کے لکھے پڑھے لوگ حتی کہ مدرسوں کے اساتذہ، کالجوں کے پروفیسر، محکموں کے افسر، پارلیمنٹوں کے ممبر اور حکومتوں کے وزراء اور بادشاہ سب اس دھوکا میں آگئے اور ایک ادنیٰ انسان سے لے کر بادشاہ تک یہ سمجھنے لگ گئے کہ واقع میں اسلام عورتوں میں روح کی موجودگی کا قائل نہیں۔کیونکہ نہ پروفیسروں نے اسلامی کتابیں دیکھی تھیں ، نہ حکام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا علم تھا ، نہ افسروں کی اور پارلیمنٹ کے ممبروں کو حقیقت کا علم تھا نہ وزراء اور بادشاہوں کو عربی زبان سے واقفیت تھی۔اُنہوں نے چند پادریوں کو یہ کہتے سنا کہ ہم نے اسلام کے سمندر میں غوطہ لگایا اور ہم نے یہ امر معلوم کیا ہے کہ اسلام عورت میں روح کا قائل نہیں اور پھر انتہائی دلیری سے وہ پادری بڑے بڑے چیتے پہن کر لیکچر دیتے اور کہتے کہ واقع میں یہ بات درست ہے اسلام تو عورت کو کی کوئی درجہ دیتا ہی نہیں اور اُن کے اس جھوٹے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر تمام یورپ میں یہی سمجھا جانے لگا کہ اسلام عورت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ شاید پادریوں کی لکھی ہوئی انگریزی کتابیں تمام عرب کے لوگ پڑھتے ہیں اور چونکہ وہ ان باتوں کا جواب نہیں دیتے اس لئے واقعہ یہی ہوگا کہ اسلام میں یہ تعلیم موجود ہے۔جرمن سمجھتے کہ جرمنی میں اسلام