خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 549

خطبات محمود ۵۴۹ سال ۱۹۳۹ء۔ہوتے ہی رہتے ہیں۔فیروز پور ، گورداسپور ، لاہور اور امرتسر کے اضلاع میں بھی بعض دفعہ ڈا کے پڑتے ہیں اسی طرح پٹھانوں کے علاقہ میں بھی کبھی کبھی ڈا کے پڑ جاتے ہیں جن میں ایک دو سپاہی مارے جاتے ہیں مگر اس معمولی سی بات کو اتنی شان سے بیان کیا جاتا ہے کہ گویا کئی کروڑ سرحدیوں نے انگریزوں پر حملہ کر دیا ہے اور وہ انہیں دباتے چلے جاتے ہیں۔غرض ایسی ایسی گئیں ہانکی جاتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور جب ہمارے اپنے ملک کے متعلق اس قد رجھوٹ سے کام لیا جا رہا ہو تو غیر ملکوں کے متعلق ہمیں آپ ہی آپ تسلی ہو جاتی ہے اور حج ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جو کچھ یہاں ہو رہا ہے وہی کچھ وہاں ہو رہا ہوگا۔یہ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ ان قوموں نے پراپیگینڈا کو ایک فن کا رنگ دے دیا ہے اور اس کمال تک اس کو پہنچا دیا ہے کہ اپنی ذات میں یہ ایک ہنر بن گیا ہے۔اگر چہ اس کو بُرے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔بہر حال ہٹنر ہنر ہی ہے۔جب کبھی ہم اس ہنر کو سچ کے ساتھ اور سچائی کے متعلق استعمال کریں گے یہ مفید نتائج پیدا کرنے والا بن جائے گا اور جب اس ہنر کو جھوٹ کے متعلق استعمال کیا جائے گا تو یہ بُرے نتائج پیدا کرنے والا بن جائے گا۔ایسی قوموں کے مقابلہ میں اسلام کی تبلیغ جب تک خاص شان کے ساتھ نہ کی جائے اُس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔کیونکہ ہم نے سچ کے ساتھ تبلیغ کرنی ہے جھوٹ کے ساتھ تبلیغ نہیں کرنی اور ہمارے لئے اس قسم کے پراپیگینڈا کا مقابلہ کرنا آسان بات نہیں۔تم اسی کی بات کو دیکھ لو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا میں وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے عورتوں کے حقوق کو قائم کیا اور یہ اتنا کھلا مسئلہ ہے کہ کوئی سلیم الطبع انسان اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ساری دُنیا میں عورتوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا تھا نہ ان کے متعلق کسی مذہب نے ورثہ کی تعلیم دی تھی نہ بیاہ اور طلاق کے قوانین مقرر کئے تھے ، نہ ان کی ذاتی جائیدادوں کے متعلق کوئی قانون مقرر کیا تھا ، نہ یہ بتایا تھا کہ مرد عورتوں سے کس رنگ میں معاملہ کریں ، نہ یہ ہدایت دی تھی کہ وہ ان سے نرمی اور محبت کا سلوک کریں اور ان کا ادب اور احترام کیا کریں، نہ لڑکیوں کی تعلیم کی طرف کسی نے توجہ دلائی تھی۔غرض سوائے اسلام کے دُنیا کا اور کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے عورتوں کے حقوق کو تفصیل کے ساتھ اور مکمل طور پر قائم کیا ہو مگر عیسائی پادریوں کے جھوٹے اور ناپاکی