خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 548

خطبات محمود ۵۴۸ سال ۱۹۳۹ء اس کے پڑھنے سے ان وعدوں میں اور زیادہ اضافہ ہو جائے۔میں نے جیسا کہ بار بار بتایا ہے اس وقت جن اقوام کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہے وہ تبلیغی لحاظ سے اتنی آگے بڑھی ہوئی ہیں کہ انہوں نے اس فن کو حد کمال تک پہنچا رکھا ہے۔درحقیقت تبلیغ کے میدان میں ایک غلط مذہب کی تائید کرنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ اُن کے دماغ میں ایسا ملکہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر دکھانے میں بڑے ماہر ہو گئے ہیں اور وہ بالکل نڈر ہو کر جھوٹ بول لیتے ہیں۔میں نے جب ہر ہٹلر کی کتاب مائنے کیمف (Meine Kampf) کا ترجمہ پڑھا جس کتاب پر نازیوں کو بہت ناز ہے تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔جب میں نے دیکھا کہ ہر ہٹلر اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ ہماری پہلی حکومت کے متعلق یہ اتہام لگایا جاتا ہے کہ اس نے بڑی جنگ کے زمانہ میں جھوٹ بولا۔وہ کہتے ہیں مجھے یہ شکوہ نہیں کہ اُس نے جھوٹ بولا یہ کوئی کی بات نہیں امور سیاست میں لوگ جھوٹ بولا ہی کرتے ہیں۔گو انسان کو کوشش یہ کرنی چاہئے کہ اگر ہو سکے تو سچ بولے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو سچ نما جھوٹ بولے۔مگر مجھے یہ شکوہ ہے کہ اس نے پیٹ بھر کر جھوٹ کیوں نہیں بولا۔وہ کہتے ہیں کہ جھوٹ کو بھی اگر متواتر دہرایا جائے اور دلیری سے دُہرایا جائے تو آہستہ آہستہ لوگوں کو یہ یقین آجاتا ہے کہ جو بات ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے وہ سچ ہے۔اب جو وائرلیس کے ذریعہ جرمنی انگریزوں کے خلاف پراپیگنڈا کر رہا ہے اس میں بھی اسی اصول کو مد نظر رکھا گیا ہے۔دوسرے ملکوں کے متعلق تو ہمارے نوجوان کہہ دیا کرتے ہیں کہ خبر ہے انگریزوں کی بات غلط ہے یا جرمنوں کی۔مگر ہمارے ملک کے متعلق جرمنی کی طرف سے جو پراپیگنڈا کیا جارہا ہے وہ اس قدر حیرت انگیز ہے کہ اُسے سُن کر انسان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ کونسا ملک ہے جس کے متعلق یہ باتیں بیان کی جارہی ہیں۔کئی دفعہ جرمنی کی طرف سے وائرلیس میں یہ خبریں آجاتی ہیں کہ ہندوستان میں بڑی بغاوتیں ہو رہی ہیں حالانکہ ہمیں یہاں خبر بھی نہیں ہوتی کہ کوئی بغاوت ہو رہی ہے۔سرحد افغانستان پر جوڈا کے پڑتے ہیں اُنہیں کا اس قدر بڑھا چڑھا کر ذکر کیا جاتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے گویا سارے ملک میں بغاوت ہورہی ہے۔حالانکہ جو جنگی قو میں ہوتی ہیں اُن میں اس قسم کے واقعات