خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 537

خطبات محمود ۵۳۷ سال ۱۹۳۹ ء و کہ یہ ابھی بیج کی حالت میں ہے اس کی اہمیت کا احساس نہیں کیا جا سکتا۔ یہ پہلے دن کا چاند ہے جو صرف تیز نظر والوں کو ہی نظر آ سکتا ہے اس وقت ہماری کوششیں بالکل معمولی ہیں مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں شاندار کامیابی ہو رہی ہے ۔ دوستوں نے اخبار الفضل“ میں ایک مصری اخبار الفتح ،، کے مضمون کا ترجمہ پڑھا ہوگا ۔ یہ مصر کا شدید ترین مخالف اخبار ہے جو نہایت گندے الزامات ہم پر لگا تا رہتا تھا اور جو لوگ ان مضامین سے واقف ہیں وہ تعجب کرتے ہوں گے کہ اس نے یہ مضمون کس طرح لکھ دیا۔ اس نے لکھا ہے کہ سارے مسلمانوں کی مجموعی تعدا د مل کر بھی اسلام کی خدمت کے لئے وہ قربانی نہیں کر رہی جو یہ مٹھی بھر جماعت کر رہی ہے۔ غور کرو یہ کتنا بڑا سرٹیفکیٹ ہے ۔ ایک شدید ترین مخالف تسلیم کرتا ہے کہ یہ جماعت اسلام کی بے نظیر خدمت کر رہی ہے ۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ ایک احمدی سو دوسرے مسلمانوں کے برابر ہے یا ہزار کے برابر ہے بلکہ کہتا ہے کہ ساری دُنیا کے مسلمان جن میں بادشاہ اور بڑے بڑے امراء بھی شامل ہیں مل کر بھی اسلام کے لئے وہ جد و جہد نہیں کر رہے جو یہ جماعت کر رہی ہے ۔ ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا رعب قائم ہو رہا ہے۔ عربی میں ضرب المثل ہے الْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ به الأعداء یعنی فضلیت وہی ہے جس کی دشمن گواہی دے۔ میں جب شام میں گیا تو وہاں عبد القادر المغر بی جو بہت بڑے اور مشہور ادیب ہیں مجھ سے ملنے آئے ۔ جس وقت وہ آئے ایک اور شخص مجھ سے بات چیت کر رہا تھا۔ وہ بیٹھے گفتگو سنتے رہے اور پھر اسے ، اور پھر اسے کہنے لگے کہ ان سے بحث مت کرو۔ یہ ہمارے وطن میں آئے ہیں ہمارا فرض ہے کہ ان کا اعزاز کریں ۔ مذہبی باتیں ان سے نہیں کرنی چاہئیں اور پھر ان باتوں کا فائدہ بھی کیا ہے۔ یہ ہندوستان کے رہنے والے ہیں جو جاہل ملک ہے جہاں کے لوگ نہ قرآن کریم سے واقف ہیں اور نہ عربی سے، جو قرآن کریم کی زبان ہے اور ان کی باتوں کا ہم لوگوں پر اثر بھی کیا ہو سکتا ہے جن کی مادری زبان عربی ہے۔ اس لئے ان کے ساتھ بحث کر کے خواہ مخواہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ یا د رکھیں میں واپس جا کر یہاں اپنا مبلغ بھیجوں گا اور اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ یہاں جماعت قائم نہ ہوا اور آپ اسے دیکھ نہ لیں کہ اس ملک کے رہنے والے بھی ہماری باتوں پر ایمان لاتے ہیں ۔ چنانچہ میں نے وہاں مبلغ بھیجا اور اللہ تعالیٰ کے