خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 533

خطبات محمود ۵۳۳ سال ۱۹۳۹ء بڑھا کر خدا تعالیٰ نے ایسا باغ بنانے کا فیصلہ کر رکھا ہے جس کے سایہ میں ساری دُنیا آرام کرے گی۔جب کوئی چیز ترقی کرنی شروع کرتی ہے تو ابتدا میں وہ تھوڑی ہی ہوتی ہے لیکن اگر خدا تعالیٰ چاہے تو آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے۔ہمارے ملک میں پہلے لوکاٹ کا درخت نہیں ہوتا تھا۔پہلے پہل کوئی یورپ، جاپان یا کسی اور ملک سے اسے یہاں لایا اور آج سارے ملک میں یہ پایا جاتا ہے۔آج سے پچاس ساٹھ سال قبل مالٹا یہاں نہیں ہوتا تھا کوئی شخص باہر سے لایا اور آج سارے ہندوستان میں یہ پایا جاتا ہے اور اب تو زمیندار بھی جانتے ہیں کہ مالٹا کیا ہوتا ہے۔اسی طرح ہمارے ملک میں کئی اجناس ایسی ہیں جو حال کی تیار کردہ ہیں۔گیہوں کی ہی کئی قسمیں ہیں جنہیں آج سے چند سال پیشتر کوئی جانتا بھی نہ تھا لیکن آج سب زمیندار اُن کو جانتے ہیں تو جو چیز بھی بڑھتی اور ترقی کرتی ہے وہ ابتدا میں تھوڑی ہوتی ہے۔ایک پیج بھی بڑھتے بڑھتے وسیع کھیت پیدا کر دیتا ہے اور پھر اس سے ملکوں کے ملکوں میں کاشت شروع ہو جاتی ہے۔ایک قصہ مشہور ہے جو معلوم نہیں سچا ہے یا جھوٹا۔کہتے ہیں فرانس کا کوئی شخص استنبول میں شاہی باغات میں نوکر تھا ترکی میں پھول بہت اعلیٰ اور کثرت سے ہوتے ہیں۔بادشاہ کے باغ میں ایک نہایت اعلیٰ درجہ کے پھولوں کا پودا تھا اس نے وہاں سے ایک بیج پھرایا اور فرانس میں لے گیا اور اسے کاشت کیا۔جب پھول لگنے شروع ہوئے تو وہاں کے امراء نے کوشش کی کہ انہیں اس کے بیج مہیا ہو سکیں اور اُنہوں نے ایک ایک بیج کے لئے ایک ایک پونڈ کی پیشکش کی مگر وہ اس قیمت پر بھی دینے پر رضا مند نہ ہوا۔آخر ایک کمیٹی بنائی گئی جو اس سے بیج لینے کی کوشش کرے۔اس نے اسے ہیں ہزار پاؤنڈ کی رقم دینے کی تجویز کی مگر وہ پھر بھی پیچ دینے پر رضامند نہ ہوا۔آخر ایک دن ایک چالاک آدمی اسے ملنے گیا جس نے فرفل یعنی بر دار کی کوٹ پہنا ہوا تھا۔وہ گیا اور اس پودے کے پاس کھڑا ہو کر اس سے سودے کی بات چیت کی کرنے لگا۔بات کرتے ہوئے اس نے دو تین بار پہلو بدلے اور فرفل کو ایسے طور پر حرکت دی کہ وہ اس پودے پر لگتا رہا۔واپس آکر اس نے اُسے جھاڑا تو دو تین بیج جو اس میں چھٹے ہوئے تھے گر پڑے جو اس نے بوئے اور ان سے پودے تیار ہو گئے اور اس طرح اس کا بیج عام ہو گیا۔