خطبات محمود (جلد 20) — Page 526
خطبات محمود ۵۲۶ سال ۱۹۳۹ ء فرماتے ہیں قیامت کے دن سب سے زیادہ میری شفاعت کا مستحق وہ شخص ہو گا جس نے سچے دل سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہہ دیا ہو ۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں میں نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا يَا رَسُولَ اللهُ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشِفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آپ کی شفاعت سے سب سے زیادہ حصہ لینے کی سعادت قیامت کے دن کون شخص حاصل کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ابو ہریرہ ! مجھے پہلے ہی یہ خیال تھا کہ چونکہ تم مجھ سے بہت باتیں دریافت کرتے رہتے ہو اس لئے یہ سوال بھی تم ہی مجھ سے پوچھو گے ۔ پھر آپ نے فرمایا اے ابو ہریرہ ! قیامت کے دن میری شفاعت میں سے سب سے زیادہ وہ شخص حصہ لے گامَن قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا الله جس نے سچے دل سے لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کہہ دیا ہو ۔ اب ایک طرف تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ میری شفاعت میں سے سب سے : سے زیادہ وہ شخص حصہ لے گا جو خلوص دل سے لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہے گا اور دوسری طرف آپ یہ فرماتے ہیں کہ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ دَخَلَ الْجَنَّةَ ل کہ جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہو گیا ۔ اب ادھر آپ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہنے کے ساتھ ہی انسان کو جنت کی بشارت دیتے ہیں اور دوسری طرف آپ یہ فرماتے ہیں کہ جولا إِلهَ إِلَّا الله کہے گا اسے میری شفاعت میں سے حصہ ملے گا ۔ یہ بظاہر دو متضاد باتیں دکھائی دیتی ہیں مگر دراصل متضاد نہیں اور اس کے معنے در حقیقت یہی ہیں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله خلوص دل اور پوری احتیاط کے ساتھ کہنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کے باوجود انسان سے کوئی نہ کوئی غلطی ہو جاتی ہے ۔ پس وہ جو اپنی طرف سے عمل کی پوری کوشش کرتا ہے مگر پھر بھی انسانی کمزوریوں کی وجہ سے اس سے کوئی نہ کوئی کوتاہی ہو جاتی ہے اس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ میں لَا إِلَهَ إِلَّا الله کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ رکھا۔ یہ بتانے اور واضح کرنے کے لئے کہ تم لا إِلهَ إِلَّا اللہ تو کہہ رہے ہو اور اس کے مطابق عمل کرنے کی بھی کوشش کرو گے مگر یاد رکھو تم سے پھر بھی کوئی نہ کوئی کوتاہی ضرور ہو جائے گی ۔اس لئے ہم تمہیں بتا دیتے ہیں کہ تم اس کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کو بھی یادرکھنا ۔ وہی ہیں جو تمہاری اس قسم کی کمی کو اپنی شفاعت سے پورا کر دیں گے۔ پس جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ کہا وہی ہے جو نجات پانے کا مستحق ہے۔ بیشک اپنی ذات میں لا إِلهَ إِلَّا اللہ بھی کافی ہے مگر کافی چیز