خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 505

خطبات محمود ۵۰۵ سال ۱۹۳۹ ء دکھاتا ہے جسے دیکھ کر بندہ سمجھ لیتا ہے کہ جو مجھے پہلے ملا وہ تو اُس کے مقابل پر کچھ بھی نہ تھا اور بے تاب ہو ہو کر کہنے لگتا ہے کہ ۔ اک معجزہ دکھا کے تو عیسیٰ بنا مجھے اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان معجزات کے ساتھ اس مقام کو حاصل کرتا ہے عقل سے نہیں ۔ عیسوی مقام کے لئے دُعا کا جوش خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے جب وہ دعا قبول ہو جاتی ہے اور وہ مقام اور اُس کے مختلف مدارج انسان حاصل کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جو اعلیٰ مقامات کے قابل ہوتا ہے محمدی تجلّی کی ایک ادنی جھلک ظاہر کرتا ہے جسے دیکھ کر پھر بندے کے دل میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس کے حصول کے لئے دُعا ئیں اور التجائیں اور گریہ وزاری شروع کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے محمدی مقام حاصل ہو جاتا ہے ۔ غرض اِس رویا میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پانے کے لئے ایک والہا نہ کیفیت اور مجنونانہ حرکت کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح بچہ ماں کے ساتھ چمٹ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں چیز لے کر چھوڑوں گا اور آخر ماں اس کی خواہش پوری کر ہی دیتی ہے۔ اسی طرح بندہ بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ چمٹ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو تجھے دیکھ کر ہی چھوڑوں گا ۔ تب اللہ تعالیٰ بھی حجاب اُٹھا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ لے دیکھ لے ۔ جب اس مقام کے نور اِس کے اندر رچ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دیکھ لیتا ہے کہ اس سے بڑا مقام اس سے بڑا مقام پانے کے یہ قابل ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسری اور پھر اسی طرح تیسری تجلّی کو ظاہر کرتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیفیت کو ایک نہایت لطیف مثال کے ساتھ واضح فرمایا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص دوزخ میں سب سے آخر رہ جائے گا اللہ تعالیٰ اُسے نکالے گا اور کہے گا کہ مانگو کیا مانگتے ہو؟ وہ کہے گا کہ بس یہی مانگتا ہوں کہ مجھے دوزخ سے نکال دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اچھا نکال دیا اور اسے بہت خوشی وہ گی۔ کچھ روز کے بعد اُسے دور ایک سبز و شاداب درخت نظر آئے گا اور اُس کے دل میں لالچ پیدا ہو گا کہ اگر میں وہاں پہنچ کر اُس کے نیچے بیٹھ سکوں تو کیا اچھا ہو ۔ کچھ مدت تک تو وہ اُس خیال کے اظہار سے رُکے گا مگر آخر خدا تعالیٰ سے کہے گا کہ ہے تو بڑی بات لیکن اگر مجھ پر رحم کر کے اس درخت کے نیچے بیٹھنے دیں تو بہت مہربانی ہو ۔ اللہ تعالیٰ اس کی بات کو مان لے گا اور